Content Details

ID
901
Title
١٥٠- حدیث : ایک غریب صحابی کی شادی اور جماعت میں نکلنے کا قصہ
Description
مولانا طارق جمیل صاحب کا ایک بیان جو کہ ویڈیو کی شکل میں محفوظ اور انٹرنیٹ پر شائع وذائع ہے۔اس میں مولانا بیان کرتے ہیں: ’’ایک صحابی آتے ہیں، حضرت سعد سلیمی، يارسول الله! أيمنعني سوادي ودمامة وجهي من دخول الجنة؟ میرا کالا رنگ مجھے جنت سے روک دے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: کیوں کیا بات؟ اگر تو ایمان والا ہے، تو مجھے کون جنت سے روک سکتا ہے؟ فرمایا: پھر بات یہ ہے کہ میں غریب آدمی ہوں، میرا رنگ کالا ہے، میں بدصورت ہوں ، لیکن میں بنوسلیم کے اشراف میں سے ہوں۔ بنوسلیم ایک قبیلہ تھا۔ اب بات یہ ہے کہ مجھے کوئی لڑکی نہیں دیتا، میرے کالے رنگ کی وجہ سے ، میری غربت کی وجہ سے، آپ ﷺ نے فرمایا: احضر اليوم عمر بن وهب الثقفي ؟ آج عمر بن وہب آۓ ہیں؟ یہ مدینے کے چودری تھے، بڑے مال دار تھے، بیٹی ان کی بڑی خوب صورت تھی کہا گیا، آج مجلس میں موجود نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ عمرو سے کہو، اپنی لڑکی تیرے نکاح میں دے دے۔حضرت سعد ﷺ جا کر دروازے پر پہنچے، سلام کیا ، کون سے بڑے گھر ہوتے تھے، ایک کمرہ ہوتا تھا، چھوٹا سا صحن ہوتا تھا، دروازے پر دستک دی، باہر نکلے، کیا بھائی ! کیا ہوا؟’’أنا قاصد رسول اللہ‘‘ میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں، اپنے لیے تیرے پاس تیری بیٹی کے ساتھ شادی کا پیغام لایاہوں۔ انھیں یقین نہیں آیا ، بظاہر کہنے لگے: بھاگ جا کہاں کی بات کرتا ہے۔ وہ تو س بے چارہ پہلے ہی غریب تھا، غم کھایا ہوا، وہ ڈر کے مارے وہاں سے پیچھے ہٹا، بیٹی خوب صورت ، حسن و جمال میں مشہور اور میرے بھائیو! مال میں مشہور بیٹی کے کان میں باپ کی اور سعد کی آواز پڑی، بیٹی سے پیچھے سے آواز دی: یا أباه النجاة ، النجاة قبل أن يفتحه الوحي‘‘ اے اباجان ! یہ سوچ لو، کیا کر رہے ہو؟ تم نبی ﷺ کی بات کو ٹھکرارہے ہو، ہلاک ہو جاو گے، میں تیار ہوں ۔ نبی ﷺ کے حکم کے سامنے میں کالے گورے کو نہیں دیکھ رہی ، میں نبی ﷺ کے حکم کو دیکھ رہی ہوں ، جاو ، میں تیار ہوں اور کہہ دو میں شادی کروں گی۔ دوڑے بھاگے، پیچھے گئے ،آپ و مسجد میں تشریف فرما تھے، جب دیکھا عمرو آۓ ہیں :”أنت الذي رددت أمر رسول اللہ ﷺ ، تو نے اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کوٹھکرایا ہے۔ کہنے لگے: میرے ماں باپ قربان ہوں، یا رسول اللہ ! خطا ہوئی ، معاف فرماۓ حکم کیجیے! کیا حکم ہے؟ فرمایا: اس سے شادی کراو۔عرض کیا: آپ ﷺ نکاح پڑھیں ، آپ ﷺ نے نکاح پڑھا، چارسو در ہم مقرر ہوۓ ، آپ ﷺ نے فرمایا : سعد جاو، لڑکی کو لے کر آو۔ کوئی برات تو ہوتی نہیں تھی۔ میرے بھائیو! ہاۓ کتنے لاکھوں کروڑوں روپے صرف اس پر آج مسلمان کے خرچ ہورہے ہیں؟!! بڑے بڑے سفر کرنے والے، جب شادی کا وقت آتا ہے، کہتے ہیں: کیا کریں؟ برادری سے مجبور ہیں ۔حضور ﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی کی اور شام کو حضرت ام ایمن کو بلایا ، کہا: ام ایمن ! جاو، میری بیٹی کو حضرت علی کے گھر چھوڑ کر آ جاو ۔ فرمایا: سعد ! جاؤ بیوی کو لے کر آو ، یا رسول اللہ ! میرے پاس تو ایک دمڑی بھی نہیں ہے، میں چارسو کہاں سے پیدا کروں اور اس کو لے کر آوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا چلو، گھبرانے کی ضرورت نہیں ، جاو علی رضی اللہ عنہ کے پاس ، عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس؛ ان سے کہو کہ تمھیں دو دوسو درہم دے دیں، پھر تیرے پاس چھ سو درہم ہو جائیں گے، چارسو درہم سے مہر ادا ہو جاۓ گا اور دوسو سے اور کوئی اپنا کام کر لینا ، نہ گھر ، نہ در ،کوئی کپڑاسی لینا ۔ تو فرمانے لگے: بہت ہی اچھا، تو حضرت علی ﷺ کے پاس گئے ، حضرت عثمان ﷺ کے پاس گئے ، حضرت عبدالرحمن ﷺ کے پاس گئے ، انھوں نے خوش ہوکر دو دوسو درہم سے بھی زیادہ دیا ،کتنا زیادہ ، بس اتنے لفظ زیادہ آتے ہیں، وما زاد‘‘۔ دو دوسو اور اس سے زیادہ ،اب کتنا زیادہ دیا ؟ یہ معلوم نہیں ، بہر حال چھ سو سے زیادہ ہو گیا ، ہزار ہو گیا ،نوسو ہو گیا۔ اب سعد بڑے خوش ، کیوں بھائی ! ایک نوجوان جو بڑی خوب صورت لڑکی سے نکاح کرنے والا ہو، اس کے جذبات کو کوئی سمجھ سکتا ہے، سواۓ اس کے جس پر یہ خود گزری ہو، کیا خیال ہے؟ آپ کا کیا جذبہ ہوگا ، سعد کا کیا جذبہ ہوگا اور بڑی خوشی سے کہنے لگے لڑکی لینے تو بعد میں جاوں گا، پہلے کچھ بازار سے سودا تو خرید لوں، چارسو تو مہر میں گیا، باقی کیا کروں، انھوں نے کہا کہ کوئی چار پائی ، تو خر یدلوں گا ،کوئی کپڑا تو خریدلوں کا کوئی کھانے پینے کا سامان ہی خریدلوں گا؛ تا کہ کچھ میرا کام چل سکے، گھر کی شکل بن سکے۔ جب بازار میں داخل ہوۓ اور پیسے پکڑے بازار میں قدم رکھا، کان میں آواز پڑی، يا خيل الله ! اركبي ، وإلى ثواب الله ارغبي ، النفير، النفير يا خيل الله ! اركبي ، وإلى ثواب الله ارغبي ‘‘اے اللہ کے سوارو! اللہ کے راستے کی پکار ہے نکلو ‘‘ ( یہ بیان ویڈیو(Video) سے سن کر من و عن نقل کیا گیا ہے۔) تحقيق یہ ترجمانی ہے اس روایت کی جو حضرت انس ﷺ کے واسطے سے نقل کی گئی ہے ، روایت تو بہت ہی طویل ہے، مگر مولانا نے جتنے حصے کی ترجمانی کی ہے، بس اتنے ہی حصے کی عربی عبارت نقل کرتا ہوں ، چناںچہ امام ابن عدی رحمہ الکامل‘‘ میں محمد بن عمر بن صالح کلامی کے تذکرے میں ذکر کرتے ہیں: أتى رجل رسول اللہ ﷺ فسلم عليه ، و قال: يا رسول الله ! أيمنع سوادي ودمامة وجهي من دخول الجنة ، قال : لا ، والذي نفسي بيده ما اتقيب ربک ، و آمنت بما جاء به رسول اللہ ﷺ ، قال :والذي أكرمك بالنبوة لقد شهدت أن لا اله إلا الله وحده لا شریک له ، و أن محمدا عبده و رسوله ، و الإقراء بما جاء به من عند الله من قبل أن أجلس معك هذا المجلس بثمانية أشهر، فقال رسول الله: لك ما للقوم ، و عليك ما عليهم و أنت أخوهم ، قال : و لقد خطبت إلى عامة من بحضرتك ، و من لقيني معك ، فردنی لسوادي ، و دمامة وجهي ، و إني لفي حسب من قومي بني سليم معروف الآباء ، و لكن غلب علي سواد أخوالي الموالي ، فقال رسول الله ﷺ : هل شهد المجلس اليوم عمرو بن وهب . و كان رجلاً من ثقيف قريب العهد بالإسلام ، وكانت فيه صعوبة ، قالوا: لا، قال: تعرف منزله ؟ قال : نعم ، قال: فاذهب فاقرع الباب قرعاً رقيقاً ثم سلم ، فإذا دخلت فقل : زوجني رسول اللہ ﷺ فتاتكم . وكانت له ابنة عاتقة ، وكان لها حظ من جمال وعقل ، فلما أتى الباب فرحوا وسمعوا لغة عربية ، فلما رأوا سواده و دمامة وجهه انقبضوا عنه ، فقال: إن رسول اللہ ﷺ زوجني فتاتكم ، فردوا عليه ردا قبيحاً ، فخرج الرجل وخرجت الفتاة من خدرها ، وقالت: يا فتی! ارجع ، فإن كان رسول الله زوجنيك ، فقد رضيت لنفسي ما رضي الله رسوله ، و أنت بعلي ، و أنا زوجتك ، فمضى حتى أتى رسول الله فأخبره ، و قالت الفتاة لأبيه : يا أبتاه ، النجاة ، قبل أن يفضحك الوحي ، فإن يكن رسول الله زوجنيه فقد رضيت ما رضي الله لي و رسوله . فخرج الشيخ حتى أتى رسول الله ﷺﷺ و هو من أدنى القوم مجلساً ، فقال: أنت الذي رددت على رسول الله ما رددت ، قال : قد فعلت ، فاستغفر الله ، وظننا أنه كاذب فقد زوجناها إياه ، فنعوذ بالله من سخط الله ، و سخط رسوله ، فقال رسول اللہ ﷺ : اذهب إلى صاحبتك فادخل بها ، قال: والذي بعثك بالحق ما أجد شيئاًحتى أسأل إخواني ، فقال رسول اللہ ﷺ : مهر امرأتك على ثلاثة من المؤمنين ، اذهب إلى عثمان بن عفان فخذ منه مائتي درهم . فأعطاه و زاده ، و اذهب إلى علي بن أبي طالب ، فخذ منه مائتي درهم . فأعطاه وزاده . و اذهب إلى عبد الرحمن بن عوف فخذ منه مائتي درهم . فأعطاه و زاده . قال: و علم أنها ليست بسنة جارية و لا فريضة مفروضة فمن شاء فليتزوج على القليل و الكثير ، فبينا هو في السوق و معه ما يشتريه لزوجته فرح قريرة عيناه ينظر ما يجهزها به إذ سمع صوتاً ينادي: يا خيل الله ! اركبي و أبشري فنظر نظرة إلى السماء ، ثم قال: اللهم إله السماء ، و إله الأرض ، و رب محمد لأجعلن هذه الدراهم اليوم فيما يحبه الله و رسوله ، و المؤمنون... اهـ ( الكامل في ضعفاء الرجال: 431/7) اس روایت کی سند میں دوراوی ہیں: (۱) سوید بن سعید انباری: امام مسلم ، امام ابن ماجہ اور امام عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان سے روایت لی ہے، فی نفسہ ثقہ و صدوق ہیں؛ مگر آخری عمر میں نابینا ہونے کی وجہ سے تلقین فاحش کا شکار ہو گئے تھے، نیز بکثرت تدلیس بھی کرتے تھے۔ چناں چہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کان قد عمي فتلقن ما ليس من حديثه‘‘۔ امام صالح بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدوق إلا أنه كان قد عمي فكان يلقن أحاديث ليست من حديثه ‘‘۔ امام حاکم ابواحمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:عمي في آخر عمره فربما لقن ما ليس من حديثه ‘‘ ۔امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کے کان صدوقا وكان يدلس و یکثر ذلک‘‘۔ عمي تلقین فاحش کی مثال میں ایک واقعہ’’تہذیب الکمال میں منقول ہے کہ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ سوید بن سعید بطریق ابن ابی الرجال: "من قال في ديننا برأيه فاقتلوہ‘‘ یہ حدیث روایت کرتے ہیں، تو ابن معین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سويد ينبغي أن نبدأ به فیقتل ‘‘ ( بہتر ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور وہ قتل کر دیا جاۓ )۔امام ابوزرعہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ وہ تو یہ روایت اسحاق بن نجیح ( مشہور زمانہ واضع حدیث کے طریق سے بیان کرتے ہیں، تو امام ابوزرعہ نے فرمایا کہ ہاں یہ اسحاق بن نجیح ہی کی روایت ہے جسے سوید بطریق ابن ابی الرجال بیان کرتے ہیں ممکن ہے کسی نے سوید کوحقیقت بتائی ہواور انھوں نے رجوع کرلیا ہو۔ ایسی تلقین فاحش کی جرح جس راوی پر لگائی گئی ہو اور اس کی مرویات میں تمیز دشوار ہو، نیز اس کی متابعت و تقویت میں کوئی دوسرا راوی بھی نہ ہو، تو اس کی حدیث محدثین کے نزدیک نہایت ہی ضعیف ومتروک قرار دی جاتی ہے۔ (الكامل:٤٩٦/٤ ،ميزان الاعتدال:٣٤٥/٣،تهذيب الكمال:٢٤٧/١٢) (۲) محمد بن عمر بن صالح کلائی: امام ابن حبان رحمہ اللہ ’’المجروہین‘‘ میں لکھتے ہیں : شیخ يروي عن أهل البصرة ، منكر الحديث جدا ، روى عنه سويد بن سعيد الكلاعي أستحب ترك الاحتجاج بحديثه إذا انفرد ‘‘۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ ’’الکامل‘‘ میں فرماتے ہیں کہ منکر الحديث عن ثقات الناس‘‘ منكر الحد یث محدثین کے نزدیک وہ راوی ہوتا ہے، جس کی اکثر و بیشتر روایات دوسرے راویوں سے الگ ہو اور اس کی موافقت میں دوسرا کوئی اس کے ساتھ شریک نہ ہو ۔ جیسا کہ اصول حدیث کی کتابوں میں درج ہے۔ (المجروحين: ٢/ ٣٠٤، ۲۹۱/۲، الکامل: ٤٣١/٧ ، ميزان الاعتدال:۲۷۷/۶،میزان الاعتدال: ۲۷۷/۶،الكامل في الضعفاء: ٧/ 431 ) الغرض اس راوی کی وجہ سے حدیث ضعیف کہلاۓ گی ؛ مگر اول الذکر راوی ( جو کہ تلقین فاحش کا شکار ہیں ) کی وجہ سے شدید ضعیف ہو جاۓ گی ۔خصوصاً اس وقت جب کہ روایت کے دونوں درجوں میں دونوں ہی متفرد و تنہا ہوں ، کوئی دوسرا ثقہ راوی ، حتی کہ ضعیف راوی اس روایت میں ان کے ساتھ شریک بیان نہ ہو۔ حدیث کے موضوع ہونے پر حضرات محدثین کی تصریح: اصول حدیث کی رو سے بلحاظ سند اس روایت کو بظاہر شدید ضعیف کہا جاۓ گا ، مگر حضرات ائمہ حدیث اور محقق ماہرین فن کے سامنے کچھ ایسے آثار و قرائن قائم ہوتے ہیں ، جن کی وجہ سے محققین راوی اور روایت پر ظاہر کے برخلاف حکم لگاتے ہیں ، جیسا کہ مقدمہ مسلم کے بعض ضعیف و کمزور راویوں کے سلسلے میں امام نووی رحمہ اللہ نے جگہ جگہ وضاحت وصراحت فرمائی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ حدیث شدید ضعیف ہے مگر محقق محدثین نے دیگر قرائن کی روشنی میں اس کو صاف صاف موضوع قرار دیا ہے ؛لہذا واجب وضروری ہے کہ جس طرح دیگرفنون میں ماہرین کی اتباع امرمعقول اور ضروری ہے، اسی طرح یہاں بھی علم حدیث کے سلسلے میں ہم پر لازم ہے کہ ہم محقق ماہرین فن حدیث کی بات کو فیصل و حکم تسلیم کر لیں ۔ الغرض جن محدثین نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے، ان کا نام و کلام درج ذیل ہے، ملاحظہ ہو: (۱) محمد بن عمر کلاعی کے تذکرے میں’’لسان المیزان ‘‘میں درج ہے کہ’’قال الحاكم: روى عن الحسن و قتادة حديثاً موضوعاً ، روى عنه سويد بن سعيد بید‘‘ (امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس راوی نے حضرت حسن اور حضرت قتادہ سے ایک موضوع حدیث بیان کی ہے، جسے سوید بن سعید اس کے حوالے سے نقل کی ہے ) ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس روایت کا ابتدائی حصہ اور امام حاکم کی یہ تصریح نقل کرتے ہیں اور تنقید وتعاقب کا ایک حرف بھی نہیں لکھتے ، جو قرینہ ہے کہ حافظ عسقلانی ، امام حاکم کے اس فیصلے سے راضی ہیں اور امام حاکم رحمہ اللہ کی ان کے نزدیک بھی یہ ایک موضوع و خودساختہ حدیث ہے۔ (۲) حافظ محمد بن طاہر مقدسی رحمہ اللہ احادیث موضوعہ کے موضوع پر تحریر فرمودہ اپنی کتاب میں اس کو درج کرتے ہیں ، جو کہ قرینہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ روایت موضوعات میں سے ہے، آپ کے الفاظ یہ ہیں: ايمنع سويقتي و دمامتي دخول الجنة ، قال: لا ما اتقيت الله ؛ فيه محمد بن عمر الكلاعي ، هو منكر الحديث. ‘‘ (کتاب تذكرة الموضوعات:۳۸) (۳) حافظ ابن عراق کنانی رحمہ اللہ نے تنزیہ الشریعہ کے مقدمے میں احادیث گھڑنے والوں اور من گھڑت احادیث کی روایت کرنے والوں کی ایک فہرست درج کی ہے ، جس میں آپ رقم طراز ہیں:’’محمد بن عمر بن صالح الكلاعي ، قال الحاكم: روى عن الحسن و قتادة حديثاً موضوعاً‘‘۔ اس راوی کا نام لینا اور پھر امام حاکم رحمہ اللہ کی تحقیق نقل کرنا ؛ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حافظ ابن عراق رحمہ اللہ کے نزدیک بھی محمد بن عمر کے طریق سے یہ جوزیر بحث روایت آئی ہے، وہ موضوع حدیث ہے۔ (لسان الميزان:٤٠٢/٧،التذكرة لطاهر المقدسي: ٣٥٤،تنزيه الشريعة: ١١١) روایت درایت کی روشنی میں: اب تک جو کچھ کلام ہوا، وہ روایت کی سند سے متعلق تھا ، لیکن ذرامتن روایت پر غور کیا جائے ، تو کئی باتیں منکر نظر آتی ہیں، مثلاً (الف) احادیث معتبرہ سے یہ امر ثابت اور واضح ہے کہ آپ ﷺ دوسروں کے ذاتی حالات اور نجی معاملات میں دخیل نہیں بنتے تھے، بلکہ آپ دوسروں کوان کے ذاتی امور میں آزاد چھوڑ دیتے اور کبھی کوئی بات ارشادفرماتے تھے تو وہ مشورے ،راۓ اور نصیحت کے طور پر فرماتے ، حاکمانہ طور پر ہرگز ہرگز نہیں۔ اب یہاں ایک لڑکی اور اس کے ذمہ داروں کی رضاورغبت جانے بغیر شادی کر دینا اور وہ بھی اس پس منظر میں کہ لڑکے کو کوئی لڑکی دینے آمادہ نہیں تھا؛ پھر ذمہ دار کے قبول نہ کرنے پر آپﷺ کا ناراض ہونا ، یہ بات آپ ﷺ کے مزاج ،تعلیمات اور پوری زندگی کے اسوہ حسنہ کے پیش نظر بعید ہے۔ (ب) مہر کے سلسلے میں اتنی تکثیر اور تشدید کہ چھ سو درہم مختلف صحابہ سے طلب کرانا ، حالاں کہ صرف دوسو درہم ہی سے لڑ کا صاحب نصاب یعنی مال دار بن گیا، پھر مزید دوسودرہم سے بھی بدرجہ اولی مال بن گیا ، اس کے باوجود دراہم کو طلب کروانا یا صحابہ کے ذمہ کرنا ،اور بطور خاص نکاح کے موقع پر جب کہ نکاح کی بات آسانی کی ہدایات آپﷺ سے صاف وصریح منقول بھی اور اس پر آپ کا عمل بھی ہے۔ الغرض عام تعلیمات و ہدایات سے الگ وجداباتیں نقل کرنے کی بنا پر محمد بن عمر کلاعی اور اس کی روایات کو منکر الحدیث‘‘اور’’المناکیر قرار دیا ہے۔ بہ ہر حال اصول حدیث اور محدثین کی تصریح کی بنا پر یہ حدیث غیر ثابت اور موضوع ہے۔
Raw Content
١٥٠- حدیث : ایک غریب صحابی کی شادی اور جماعت میں نکلنے کا قصہ مولانا طارق جمیل صاحب کا ایک بیان جو کہ ویڈیو کی شکل میں محفوظ اور انٹرنیٹ پر شائع وذائع ہے۔اس میں مولانا بیان کرتے ہیں: ’’ایک صحابی آتے ہیں، حضرت سعد سلیمی، يارسول الله! أيمنعني سوادي ودمامة وجهي من دخول الجنة؟ میرا کالا رنگ مجھے جنت سے روک دے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: کیوں کیا بات؟ اگر تو ایمان والا ہے، تو مجھے کون جنت سے روک سکتا ہے؟ فرمایا: پھر بات یہ ہے کہ میں غریب آدمی ہوں، میرا رنگ کالا ہے، میں بدصورت ہوں ، لیکن میں بنوسلیم کے اشراف میں سے ہوں۔ بنوسلیم ایک قبیلہ تھا۔ اب بات یہ ہے کہ مجھے کوئی لڑکی نہیں دیتا، میرے کالے رنگ کی وجہ سے ، میری غربت کی وجہ سے، آپ ﷺ نے فرمایا: احضر اليوم عمر بن وهب الثقفي ؟ آج عمر بن وہب آۓ ہیں؟ یہ مدینے کے چودری تھے، بڑے مال دار تھے، بیٹی ان کی بڑی خوب صورت تھی کہا گیا، آج مجلس میں موجود نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ عمرو سے کہو، اپنی لڑکی تیرے نکاح میں دے دے۔حضرت سعد ﷺ جا کر دروازے پر پہنچے، سلام کیا ، کون سے بڑے گھر ہوتے تھے، ایک کمرہ ہوتا تھا، چھوٹا سا صحن ہوتا تھا، دروازے پر دستک دی، باہر نکلے، کیا بھائی ! کیا ہوا؟’’أنا قاصد رسول اللہ‘‘ میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں، اپنے لیے تیرے پاس تیری بیٹی کے ساتھ شادی کا پیغام لایاہوں۔ انھیں یقین نہیں آیا ، بظاہر کہنے لگے: بھاگ جا کہاں کی بات کرتا ہے۔ وہ تو س بے چارہ پہلے ہی غریب تھا، غم کھایا ہوا، وہ ڈر کے مارے وہاں سے پیچھے ہٹا، بیٹی خوب صورت ، حسن و جمال میں مشہور اور میرے بھائیو! مال میں مشہور بیٹی کے کان میں باپ کی اور سعد کی آواز پڑی، بیٹی سے پیچھے سے آواز دی: یا أباه النجاة ، النجاة قبل أن يفتحه الوحي‘‘ اے اباجان ! یہ سوچ لو، کیا کر رہے ہو؟ تم نبی ﷺ کی بات کو ٹھکرارہے ہو، ہلاک ہو جاو گے، میں تیار ہوں ۔ نبی ﷺ کے حکم کے سامنے میں کالے گورے کو نہیں دیکھ رہی ، میں نبی ﷺ کے حکم کو دیکھ رہی ہوں ، جاو ، میں تیار ہوں اور کہہ دو میں شادی کروں گی۔ دوڑے بھاگے، پیچھے گئے ،آپ و مسجد میں تشریف فرما تھے، جب دیکھا عمرو آۓ ہیں :”أنت الذي رددت أمر رسول اللہ ﷺ ، تو نے اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کوٹھکرایا ہے۔ کہنے لگے: میرے ماں باپ قربان ہوں، یا رسول اللہ ! خطا ہوئی ، معاف فرماۓ حکم کیجیے! کیا حکم ہے؟ فرمایا: اس سے شادی کراو۔عرض کیا: آپ ﷺ نکاح پڑھیں ، آپ ﷺ نے نکاح پڑھا، چارسو در ہم مقرر ہوۓ ، آپ ﷺ نے فرمایا : سعد جاو، لڑکی کو لے کر آو۔ کوئی برات تو ہوتی نہیں تھی۔ میرے بھائیو! ہاۓ کتنے لاکھوں کروڑوں روپے صرف اس پر آج مسلمان کے خرچ ہورہے ہیں؟!! بڑے بڑے سفر کرنے والے، جب شادی کا وقت آتا ہے، کہتے ہیں: کیا کریں؟ برادری سے مجبور ہیں ۔حضور ﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی کی اور شام کو حضرت ام ایمن کو بلایا ، کہا: ام ایمن ! جاو، میری بیٹی کو حضرت علی کے گھر چھوڑ کر آ جاو ۔ فرمایا: سعد ! جاؤ بیوی کو لے کر آو ، یا رسول اللہ ! میرے پاس تو ایک دمڑی بھی نہیں ہے، میں چارسو کہاں سے پیدا کروں اور اس کو لے کر آوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا چلو، گھبرانے کی ضرورت نہیں ، جاو علی رضی اللہ عنہ کے پاس ، عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس؛ ان سے کہو کہ تمھیں دو دوسو درہم دے دیں، پھر تیرے پاس چھ سو درہم ہو جائیں گے، چارسو درہم سے مہر ادا ہو جاۓ گا اور دوسو سے اور کوئی اپنا کام کر لینا ، نہ گھر ، نہ در ،کوئی کپڑاسی لینا ۔ تو فرمانے لگے: بہت ہی اچھا، تو حضرت علی ﷺ کے پاس گئے ، حضرت عثمان ﷺ کے پاس گئے ، حضرت عبدالرحمن ﷺ کے پاس گئے ، انھوں نے خوش ہوکر دو دوسو درہم سے بھی زیادہ دیا ،کتنا زیادہ ، بس اتنے لفظ زیادہ آتے ہیں، وما زاد‘‘۔ دو دوسو اور اس سے زیادہ ،اب کتنا زیادہ دیا ؟ یہ معلوم نہیں ، بہر حال چھ سو سے زیادہ ہو گیا ، ہزار ہو گیا ،نوسو ہو گیا۔ اب سعد بڑے خوش ، کیوں بھائی ! ایک نوجوان جو بڑی خوب صورت لڑکی سے نکاح کرنے والا ہو، اس کے جذبات کو کوئی سمجھ سکتا ہے، سواۓ اس کے جس پر یہ خود گزری ہو، کیا خیال ہے؟ آپ کا کیا جذبہ ہوگا ، سعد کا کیا جذبہ ہوگا اور بڑی خوشی سے کہنے لگے لڑکی لینے تو بعد میں جاوں گا، پہلے کچھ بازار سے سودا تو خرید لوں، چارسو تو مہر میں گیا، باقی کیا کروں، انھوں نے کہا کہ کوئی چار پائی ، تو خر یدلوں گا ،کوئی کپڑا تو خریدلوں کا کوئی کھانے پینے کا سامان ہی خریدلوں گا؛ تا کہ کچھ میرا کام چل سکے، گھر کی شکل بن سکے۔ جب بازار میں داخل ہوۓ اور پیسے پکڑے بازار میں قدم رکھا، کان میں آواز پڑی، يا خيل الله ! اركبي ، وإلى ثواب الله ارغبي ، النفير، النفير يا خيل الله ! اركبي ، وإلى ثواب الله ارغبي ‘‘اے اللہ کے سوارو! اللہ کے راستے کی پکار ہے نکلو ‘‘ ( یہ بیان ویڈیو(Video) سے سن کر من و عن نقل کیا گیا ہے۔) تحقيق یہ ترجمانی ہے اس روایت کی جو حضرت انس ﷺ کے واسطے سے نقل کی گئی ہے ، روایت تو بہت ہی طویل ہے، مگر مولانا نے جتنے حصے کی ترجمانی کی ہے، بس اتنے ہی حصے کی عربی عبارت نقل کرتا ہوں ، چناںچہ امام ابن عدی رحمہ الکامل‘‘ میں محمد بن عمر بن صالح کلامی کے تذکرے میں ذکر کرتے ہیں: أتى رجل رسول اللہ ﷺ فسلم عليه ، و قال: يا رسول الله ! أيمنع سوادي ودمامة وجهي من دخول الجنة ، قال : لا ، والذي نفسي بيده ما اتقيب ربک ، و آمنت بما جاء به رسول اللہ ﷺ ، قال :والذي أكرمك بالنبوة لقد شهدت أن لا اله إلا الله وحده لا شریک له ، و أن محمدا عبده و رسوله ، و الإقراء بما جاء به من عند الله من قبل أن أجلس معك هذا المجلس بثمانية أشهر، فقال رسول الله: لك ما للقوم ، و عليك ما عليهم و أنت أخوهم ، قال : و لقد خطبت إلى عامة من بحضرتك ، و من لقيني معك ، فردنی لسوادي ، و دمامة وجهي ، و إني لفي حسب من قومي بني سليم معروف الآباء ، و لكن غلب علي سواد أخوالي الموالي ، فقال رسول الله ﷺ : هل شهد المجلس اليوم عمرو بن وهب . و كان رجلاً من ثقيف قريب العهد بالإسلام ، وكانت فيه صعوبة ، قالوا: لا، قال: تعرف منزله ؟ قال : نعم ، قال: فاذهب فاقرع الباب قرعاً رقيقاً ثم سلم ، فإذا دخلت فقل : زوجني رسول اللہ ﷺ فتاتكم . وكانت له ابنة عاتقة ، وكان لها حظ من جمال وعقل ، فلما أتى الباب فرحوا وسمعوا لغة عربية ، فلما رأوا سواده و دمامة وجهه انقبضوا عنه ، فقال: إن رسول اللہ ﷺ زوجني فتاتكم ، فردوا عليه ردا قبيحاً ، فخرج الرجل وخرجت الفتاة من خدرها ، وقالت: يا فتی! ارجع ، فإن كان رسول الله زوجنيك ، فقد رضيت لنفسي ما رضي الله رسوله ، و أنت بعلي ، و أنا زوجتك ، فمضى حتى أتى رسول الله فأخبره ، و قالت الفتاة لأبيه : يا أبتاه ، النجاة ، قبل أن يفضحك الوحي ، فإن يكن رسول الله زوجنيه فقد رضيت ما رضي الله لي و رسوله . فخرج الشيخ حتى أتى رسول الله ﷺﷺ و هو من أدنى القوم مجلساً ، فقال: أنت الذي رددت على رسول الله ما رددت ، قال : قد فعلت ، فاستغفر الله ، وظننا أنه كاذب فقد زوجناها إياه ، فنعوذ بالله من سخط الله ، و سخط رسوله ، فقال رسول اللہ ﷺ : اذهب إلى صاحبتك فادخل بها ، قال: والذي بعثك بالحق ما أجد شيئاًحتى أسأل إخواني ، فقال رسول اللہ ﷺ : مهر امرأتك على ثلاثة من المؤمنين ، اذهب إلى عثمان بن عفان فخذ منه مائتي درهم . فأعطاه و زاده ، و اذهب إلى علي بن أبي طالب ، فخذ منه مائتي درهم . فأعطاه وزاده . و اذهب إلى عبد الرحمن بن عوف فخذ منه مائتي درهم . فأعطاه و زاده . قال: و علم أنها ليست بسنة جارية و لا فريضة مفروضة فمن شاء فليتزوج على القليل و الكثير ، فبينا هو في السوق و معه ما يشتريه لزوجته فرح قريرة عيناه ينظر ما يجهزها به إذ سمع صوتاً ينادي: يا خيل الله ! اركبي و أبشري فنظر نظرة إلى السماء ، ثم قال: اللهم إله السماء ، و إله الأرض ، و رب محمد لأجعلن هذه الدراهم اليوم فيما يحبه الله و رسوله ، و المؤمنون... اهـ ( الكامل في ضعفاء الرجال: 431/7) اس روایت کی سند میں دوراوی ہیں: (۱) سوید بن سعید انباری: امام مسلم ، امام ابن ماجہ اور امام عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان سے روایت لی ہے، فی نفسہ ثقہ و صدوق ہیں؛ مگر آخری عمر میں نابینا ہونے کی وجہ سے تلقین فاحش کا شکار ہو گئے تھے، نیز بکثرت تدلیس بھی کرتے تھے۔ چناں چہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کان قد عمي فتلقن ما ليس من حديثه‘‘۔ امام صالح بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدوق إلا أنه كان قد عمي فكان يلقن أحاديث ليست من حديثه ‘‘۔ امام حاکم ابواحمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:عمي في آخر عمره فربما لقن ما ليس من حديثه ‘‘ ۔امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کے کان صدوقا وكان يدلس و یکثر ذلک‘‘۔ عمي تلقین فاحش کی مثال میں ایک واقعہ’’تہذیب الکمال میں منقول ہے کہ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ سوید بن سعید بطریق ابن ابی الرجال: "من قال في ديننا برأيه فاقتلوہ‘‘ یہ حدیث روایت کرتے ہیں، تو ابن معین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سويد ينبغي أن نبدأ به فیقتل ‘‘ ( بہتر ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور وہ قتل کر دیا جاۓ )۔امام ابوزرعہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ وہ تو یہ روایت اسحاق بن نجیح ( مشہور زمانہ واضع حدیث کے طریق سے بیان کرتے ہیں، تو امام ابوزرعہ نے فرمایا کہ ہاں یہ اسحاق بن نجیح ہی کی روایت ہے جسے سوید بطریق ابن ابی الرجال بیان کرتے ہیں ممکن ہے کسی نے سوید کوحقیقت بتائی ہواور انھوں نے رجوع کرلیا ہو۔ ایسی تلقین فاحش کی جرح جس راوی پر لگائی گئی ہو اور اس کی مرویات میں تمیز دشوار ہو، نیز اس کی متابعت و تقویت میں کوئی دوسرا راوی بھی نہ ہو، تو اس کی حدیث محدثین کے نزدیک نہایت ہی ضعیف ومتروک قرار دی جاتی ہے۔ (الكامل:٤٩٦/٤ ،ميزان الاعتدال:٣٤٥/٣،تهذيب الكمال:٢٤٧/١٢) (۲) محمد بن عمر بن صالح کلائی: امام ابن حبان رحمہ اللہ ’’المجروہین‘‘ میں لکھتے ہیں : شیخ يروي عن أهل البصرة ، منكر الحديث جدا ، روى عنه سويد بن سعيد الكلاعي أستحب ترك الاحتجاج بحديثه إذا انفرد ‘‘۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ ’’الکامل‘‘ میں فرماتے ہیں کہ منکر الحديث عن ثقات الناس‘‘ منكر الحد یث محدثین کے نزدیک وہ راوی ہوتا ہے، جس کی اکثر و بیشتر روایات دوسرے راویوں سے الگ ہو اور اس کی موافقت میں دوسرا کوئی اس کے ساتھ شریک نہ ہو ۔ جیسا کہ اصول حدیث کی کتابوں میں درج ہے۔ (المجروحين: ٢/ ٣٠٤، ۲۹۱/۲، الکامل: ٤٣١/٧ ، ميزان الاعتدال:۲۷۷/۶،میزان الاعتدال: ۲۷۷/۶،الكامل في الضعفاء: ٧/ 431 ) الغرض اس راوی کی وجہ سے حدیث ضعیف کہلاۓ گی ؛ مگر اول الذکر راوی ( جو کہ تلقین فاحش کا شکار ہیں ) کی وجہ سے شدید ضعیف ہو جاۓ گی ۔خصوصاً اس وقت جب کہ روایت کے دونوں درجوں میں دونوں ہی متفرد و تنہا ہوں ، کوئی دوسرا ثقہ راوی ، حتی کہ ضعیف راوی اس روایت میں ان کے ساتھ شریک بیان نہ ہو۔ حدیث کے موضوع ہونے پر حضرات محدثین کی تصریح: اصول حدیث کی رو سے بلحاظ سند اس روایت کو بظاہر شدید ضعیف کہا جاۓ گا ، مگر حضرات ائمہ حدیث اور محقق ماہرین فن کے سامنے کچھ ایسے آثار و قرائن قائم ہوتے ہیں ، جن کی وجہ سے محققین راوی اور روایت پر ظاہر کے برخلاف حکم لگاتے ہیں ، جیسا کہ مقدمہ مسلم کے بعض ضعیف و کمزور راویوں کے سلسلے میں امام نووی رحمہ اللہ نے جگہ جگہ وضاحت وصراحت فرمائی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ حدیث شدید ضعیف ہے مگر محقق محدثین نے دیگر قرائن کی روشنی میں اس کو صاف صاف موضوع قرار دیا ہے ؛لہذا واجب وضروری ہے کہ جس طرح دیگرفنون میں ماہرین کی اتباع امرمعقول اور ضروری ہے، اسی طرح یہاں بھی علم حدیث کے سلسلے میں ہم پر لازم ہے کہ ہم محقق ماہرین فن حدیث کی بات کو فیصل و حکم تسلیم کر لیں ۔ الغرض جن محدثین نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے، ان کا نام و کلام درج ذیل ہے، ملاحظہ ہو: (۱) محمد بن عمر کلاعی کے تذکرے میں’’لسان المیزان ‘‘میں درج ہے کہ’’قال الحاكم: روى عن الحسن و قتادة حديثاً موضوعاً ، روى عنه سويد بن سعيد بید‘‘ (امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس راوی نے حضرت حسن اور حضرت قتادہ سے ایک موضوع حدیث بیان کی ہے، جسے سوید بن سعید اس کے حوالے سے نقل کی ہے ) ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس روایت کا ابتدائی حصہ اور امام حاکم کی یہ تصریح نقل کرتے ہیں اور تنقید وتعاقب کا ایک حرف بھی نہیں لکھتے ، جو قرینہ ہے کہ حافظ عسقلانی ، امام حاکم کے اس فیصلے سے راضی ہیں اور امام حاکم رحمہ اللہ کی ان کے نزدیک بھی یہ ایک موضوع و خودساختہ حدیث ہے۔ (۲) حافظ محمد بن طاہر مقدسی رحمہ اللہ احادیث موضوعہ کے موضوع پر تحریر فرمودہ اپنی کتاب میں اس کو درج کرتے ہیں ، جو کہ قرینہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ روایت موضوعات میں سے ہے، آپ کے الفاظ یہ ہیں: ايمنع سويقتي و دمامتي دخول الجنة ، قال: لا ما اتقيت الله ؛ فيه محمد بن عمر الكلاعي ، هو منكر الحديث. ‘‘ (کتاب تذكرة الموضوعات:۳۸) (۳) حافظ ابن عراق کنانی رحمہ اللہ نے تنزیہ الشریعہ کے مقدمے میں احادیث گھڑنے والوں اور من گھڑت احادیث کی روایت کرنے والوں کی ایک فہرست درج کی ہے ، جس میں آپ رقم طراز ہیں:’’محمد بن عمر بن صالح الكلاعي ، قال الحاكم: روى عن الحسن و قتادة حديثاً موضوعاً‘‘۔ اس راوی کا نام لینا اور پھر امام حاکم رحمہ اللہ کی تحقیق نقل کرنا ؛ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حافظ ابن عراق رحمہ اللہ کے نزدیک بھی محمد بن عمر کے طریق سے یہ جوزیر بحث روایت آئی ہے، وہ موضوع حدیث ہے۔ (لسان الميزان:٤٠٢/٧،التذكرة لطاهر المقدسي: ٣٥٤،تنزيه الشريعة: ١١١) روایت درایت کی روشنی میں: اب تک جو کچھ کلام ہوا، وہ روایت کی سند سے متعلق تھا ، لیکن ذرامتن روایت پر غور کیا جائے ، تو کئی باتیں منکر نظر آتی ہیں، مثلاً (الف) احادیث معتبرہ سے یہ امر ثابت اور واضح ہے کہ آپ ﷺ دوسروں کے ذاتی حالات اور نجی معاملات میں دخیل نہیں بنتے تھے، بلکہ آپ دوسروں کوان کے ذاتی امور میں آزاد چھوڑ دیتے اور کبھی کوئی بات ارشادفرماتے تھے تو وہ مشورے ،راۓ اور نصیحت کے طور پر فرماتے ، حاکمانہ طور پر ہرگز ہرگز نہیں۔ اب یہاں ایک لڑکی اور اس کے ذمہ داروں کی رضاورغبت جانے بغیر شادی کر دینا اور وہ بھی اس پس منظر میں کہ لڑکے کو کوئی لڑکی دینے آمادہ نہیں تھا؛ پھر ذمہ دار کے قبول نہ کرنے پر آپﷺ کا ناراض ہونا ، یہ بات آپ ﷺ کے مزاج ،تعلیمات اور پوری زندگی کے اسوہ حسنہ کے پیش نظر بعید ہے۔ (ب) مہر کے سلسلے میں اتنی تکثیر اور تشدید کہ چھ سو درہم مختلف صحابہ سے طلب کرانا ، حالاں کہ صرف دوسو درہم ہی سے لڑ کا صاحب نصاب یعنی مال دار بن گیا، پھر مزید دوسودرہم سے بھی بدرجہ اولی مال بن گیا ، اس کے باوجود دراہم کو طلب کروانا یا صحابہ کے ذمہ کرنا ،اور بطور خاص نکاح کے موقع پر جب کہ نکاح کی بات آسانی کی ہدایات آپﷺ سے صاف وصریح منقول بھی اور اس پر آپ کا عمل بھی ہے۔ الغرض عام تعلیمات و ہدایات سے الگ وجداباتیں نقل کرنے کی بنا پر محمد بن عمر کلاعی اور اس کی روایات کو منکر الحدیث‘‘اور’’المناکیر قرار دیا ہے۔ بہ ہر حال اصول حدیث اور محدثین کی تصریح کی بنا پر یہ حدیث غیر ثابت اور موضوع ہے۔
Fields
مروجہ موضوع احادیث کا علمی جائزہ
Back