Content Details

ID
902
Title
١٥١- حدیث : کیا ایک عورت یا مردوں کو جہنم میں لے جاۓ گی؟
Description
خطباء ،عوام الناس اور تبلیغی جماعت میں ایک روایت مشہور ہے، وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب قیامت کے روز گناہ گارعورت کے بارے میں جہنم کا فیصلہ ہوگا تو وہ اللہ سے عرض کرے گی کہ اے ما لک! میرے باپ، میرے بھائی ، میرے شوہر اور میرے بیٹے کے بارے میں بھی جہنم کا فیصلہ سنادیجیے؛ کیوں کہ ان کی ذمے داری تھی کہ مجھے ہدایت کا راستہ دکھاتے ، اللہ کے راستے میں لگاتے ، مگر انھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ اس کی اس بات کے بعد اللہ تعالی فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس عورت کے ساتھ ان چاروں کو بھی منہ کے بل ، بال گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لے جا کر پھینک دو ۔‘‘ تحقيق: عام طور پر یہ روایت اس وقت بیان کی جاتی ہے جب ’’عورت کی بے پردگی پر مردوں کی پکڑ‘‘ کے موضوع پر یا ’’عورتوں کو بلیغ میں لے جانے کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر کچھ کہا اور سنایا جا تا ہے۔ ذیل میں اسی روایت کا چند پہلووں سے جائزہ اور پھر اس پر کلام ملاحظہ ہو: پہلا پھلو: حدیث کی معتبر ومستند کتابوں میں اس مضمون و مفہوم کی کوئی روایت تلاش بسیار کے بعد بھی تا حال کہیں نہیں ملی۔ دوسرا پھلو: اس میں جو بات بیان کی گئی ہے، اس کا مطلب بظاہر یہی نکلتا ہے کہ عورت کی کوتاہی و تقصیر کی اصل ذمے دار وہ خود نہیں ہے؛ بل کہ اس کے ذمے دار چار مرد ہیں: (۱) باپ۔ (۲) بھائی۔ (۳) شوہر۔ (۴) بیٹا۔ یہ چاروں اگر چہ نیک کام کرنے اور ہدایت کا راستہ بتانے والے ہوں، مگر ان کی بیٹی یا بہن ، یا بیوی ، یا ماں اگر گناہ کرے گی تو اس کی سزا ان مردوں کو بھی ملے گی اور جہنم میں جانا پڑے گا ۔ اس مفہوم و مطلب کی صورت میں یہی نہیں کہ یہ روایت غیر ثابت و بے اصل کہلاۓ گی ؛ بل کہ سراسر باطل اور قرآن وحدیث کی تصریحات کے مخالف ہو گی، چناں چہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: من اهتدى فإنما يهتدي لنفسه ومن ضل فإنما يضل عليها ولا تزر وازرة وزر أخرى ) [سوره اسراء] ( جوشخص ( دنیا میں سیدھی راہ پر چلتا ہے، تو وہ اپنے ہی نفع کے لیے چلتا ہے اور جوشخص بے راہی اختیار کرتا ہے، وہ بھی اپنے ہی نقصان کے لیے بے راہ ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔) سورۂ انعام میں اللہ تعالی کا فرمان عالی ہے: ولا تكسب كل نفس إلا عليها ولا تزر وازرة وزر أخرى﴾ [سورة انعام ] ( جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے، وہ اس پر رہتا ہے اور کوئی دوسرے کا بوجھ ( گناہ کا) نہ اٹھاوے گا بل کہ سب اپنی اپنی بھگتیں گے )۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت مفتی شفیع عثمانی صاحب رحمت اللہ رقم فرماتے ہیں کہ عدالت الہیہ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ، وہاں ایک کے گناہ میں دوسرا ہر گز نہیں پکڑا جا سکتا، اسی آیت سے استدلال فرما کر نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا کہ ولد الزنا پر والدین کے جرم کا کوئی اثر نہیں ہوگا، یہ حدیث حاکم به سند صحیح حضرت عائشہ ﷺ سے روایت کی ہے۔ (معارف القرآن:۵۱۰/۳-۵۱۱) قرآن مجید کی ان دو آیتوں کے علاوہ ﴿ سورہ تحریم میں اللہ تعالی حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی کافر بیویوں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کو اہل جہنم میں داخل فرمایا ہے ، مگر ان کے کفروشرک اور فسق و فجور کی پاداش میں ایک الزام وتحقیر کا ایک لفظ بھی حضرات انبیاء کے حق میں استعمال نہیں فرمایا ؛ بل کہ اس احتمال کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کا جواب دے دیا کہ اور فرما دیا کہ یہ دونوں جلیل القدر پیغمبر ہمارے خاص ومقرب بندوں میں سے ہیں اور دونوں ہی صلاح وفلاح والے ہیں ، چناں چہ ارشادربانی ہے: وضرب الله مثلا للذين كفروا امرات نوح و امرات لوط كانتا تحت عبدين من عبادنا صالحين فخانتهما فلم يغنيا عنهما من الله شيئا وقيل ادخلا النار مع الدخلين [سورہ تحریم ] اس سے ظاہر و باہر ہو گیا کہ زیر بحث روایت ثابت نہ ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن وحدیث کے معارض اور قانون اسلامی کے خلاف ہے، لہذا اس کو کسی بھی طرح کسی کے لیے بھی بیان کرنا جائز نہیں ہے۔ تیسرا پھلو: اگر اس کلام کی تاویل میں کوئی یہ کہے کہ اسلام میں مردوں کو گھر والوں کا نگراں وذمے دار بنایا گیا ہے؛ لہذامردوں کے ماتحت رہنے والوں کی بدعملی کے ذمے دار وہ خود ہوں گے ۔ تو یادرکھنا چاہیے کہ اپنے ماتحتوں ومتعلقین کی تعلیم وتربیت کے باب میں تنہا مردہی ذمے دار نہیں ہیں؛ بل کہ عورتیں بھی برابر کی شریک اور ذمے دار ہیں، چناں چہ نبی اکرم ﷺ کی حدیث صحیح میں صاف صاف مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : المرأة راعية على بيت بعلها ، و ولده ، وهي مسئولة عنهم‘‘ (عورت اپنے شوہر کے گھر کی اور بچوں کی نگران و ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں بھی سوال یعنی حساب و کتاب ہوگا۔) لہذا جس طرح عورت کی تعلیم وتربیت میں اگر اس کے ذمے دار مردکی وکوتاہی کر یں گے ، تو ان کی پڑ کی جائے گی ، اسی طرح اگر مردوں کی تعلیم وتربیت اور ان کی خیر خواہی کی ذمے دار خواتین اگر کوتاہی وغفلت برتیں گئیں، تو ان کی بھی برابر پکڑ ہوگی۔ (البخاري:٢٥٥٤،مسلم:٤٨٢٨) چوتھا پهلو: امام بیہقی رحمہ اللہ کی شعب الایمان:۸۲۲۶‘‘ میں اور ان ہی کے حوالے سے ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے ’’باب الولي في النكاح واستئذان المرأة “ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: "من ولد له ولد فليحسن اسمه ، و أدبه ، فإذا بلغ فليزوجه ، فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إنما فإنما إثمه على أبيه.» (جس کے یہاں اولاد پیدا ہو، تو اس کو چاہیے کہ اس کا نام اچھارکھے اور اس کی صحیح پرورش کرے۔ پھر جب وہ بالغ ہو جاۓ ، تو شادی کر دے؛ کیوں کہ اگر یہ اولاد بالغ ہوئی اور اس نے ان کی شادی نہیں کی اور اس اولادنے کوئی گناہ کرلیا، تو اس کے گناہ کا وبال اس کے باپ پر ہوگا ۔ ) اسی طرح ’’شعب الایمان: ٨٦٧٠" میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ” في التوراة مكتوب من بلغت إبنته إثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فأصابت إنما قاثم ذلک علیہ‘‘ ( تورات میں لکھا ہوا ہے کہ جس کی بیٹی بارہ برس کی ہوگئی بالغ ہوگئی اور باپ نے اس کی شادی نہیں کی اور اس لڑکی نے جنسی گناہ کر لیا، تو اس کا گناہ [ وبال] اس کے باپ پر ہوگا )۔ ان دوروایات کا حاصل یہ ہے کہ اولادکوصحیح تعلیم وتربیت نہیں دی گئی اوران کی تربیت میں والدین نے مجرمانہ حد تک کوتاہی برتی ، تو اس اولاد کی برائیوں کا وبال والدین کو بھی چکھنا پڑے گا ، اولاد کو تو ارتکاب جرم کی وجہ سے اور اس کے والدین کواولاد کی صحیح تربیت کرنے میں کوتاہی برتنے کی وجہ سے۔ پانچواں پھلو: ” تفسیر ابن جریرطبری:۳۲/۷-۳۳‘‘ میں، «تفسیر ابن ابی حاتم ، رقم : ۵۳۳۵ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ منقول ہے کہ قیامت کے دن حساب ہوگا تو بندے کا ہاتھ پکڑ کر یا بندی کا ہاتھ پکڑ کر سامنے لا کے کھڑا کر دیا جائے گا، اور ایک ندالگانے والا فرشتہ تمام اولین و آخرین لوگوں کے سامنے ندا لگائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں ہے ،اس پر جس کسی کا حق ہے وہ آۓ اوراپناحق وصول کر لے، یہ سنتے ہی عورت چاہے گی کہ کسی طرح اس کاحق نکل آۓ چاہے باپ پر ہو، یا بھائی پر ہو، یا شوہر پر ہو، الخ عربی عبارت یہ ہے: "قال عبد الله بن مسعود ﷺ : يؤخذ بيد العبد و الأمة يوم القيامة فينادي مناد على رؤوس الأولين و الآخرين : هذا فلان بن فلان ، من كان له حق فليأت الى حقه ، فتفرح المرأة أن يذوب لها الحق على أبيها أو على أخيها ، أو على زوجها ؛ اهـ“ ’’ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی والا کلام سنانے والے شاید اس روایت کو بنیاد بنائیں مگر چند امور قابل غور ہیں: امر اول : ایک عورت اور چار مردوں کی تخصیص صحیح نہیں ، اس لئے کہ جس طرح عورت کا ذکر ہے اسی طرح ایک روایت میں مرد کا بھی ذکر ہے کہ فرشتے کے اس اعلان کو سن کر مر د بھی چاہے گا کہ اس کا حق باپ پر ، یا بیٹے پر ، یا بیوی پر ، یا بہن پر نکل آۓ ۔ چنانچہ امام طبری کی روایت کے الفاظ ہیں: "فيفرح - والله - المرء أن يدور له الحق على والده ، أو ولده ، أو زوجته ، أو أخته فيأخذه منه و ان كان صغيراً ، اهـ“ لیجیے جس طرح عورت کا ذکر ہے اسی طرح مرد کا بھی ذکر ہے۔ امر دوم : تخصیص اس لیے بھی میچ نہیں ؛ کیوں کہ روایت میں مرداور عورت دونوں کے حساب و کتاب کا ذکر ہے، چنانچہ امام طبری کی روایت میں الفاظ ہیں:”يؤخذ بيد العبد و الأمة ‘‘اورامام ابن ابی حاتم کی روایت کے الفاظ ہیں: یؤتى بالعبد و الأمة ‘‘۔ امر سوم : یہ تو روایتا تخصیص نہ کرنے پر قرائن ہیں تخصیص کے صحیح نہ ہونے پر سب سے بڑی دلیل درایت اور نصوص شرع ہیں ، چنانچہ آخرت میں جس طرح عورت کو مردوں سے اپنا حق وصول کرنے کا حق ملے گا اسی طرح مردکو بھی عورتوں سے اپناحق وصول کرنے کا حق ملے گا۔ حقیقی انصاف کے دن صرف عورت کے ساتھ اور مرد کے ساتھ بے انصافی نہیں ہو گی۔ بلکہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کے لئے می اعلان ہوگا ( سابقہ سطور میں چند روایت جونقل کی گئیں وہ اس کی واضح دلیل ہیں)۔ امر چهارم : آخرت کے امور سے متعلق ہونے کی بنا پر کوئی اس موقوف حدیث کو حکما مرفوع خیال نہ کرے، اس لئے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد از قبیل سماع من النبی ﷺ سے نہیں ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ یہ از قبيل الاستنباط من الآيات بطريق التدبر فیھا ہو، چنانچہ روایت میں تصریح ہے ثم قرأ ابن مسعود فلا أنساب بينهم يوميد ولا يتساء لون‘‘۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ ہیں:’’ومصداق ذلك في كتاب الله‘‘۔ حاصل کلام خلاصہ یہ کہ ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گئی والی بات جس طرح کی تخصیص تعیین کے تاثر ظاہر کے ساتھ بیانات ،اختبارات واشتہارات میں نقل کی جاتی ہے اس طرح آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، بلکہ اس طرح کی تخصیص کرنا نصوص شرع میں تغیر وتبدل کا باعث ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے ۔اور اس طرح بیان کرنا بھی صحیح نہیں ہے ۔ دیکھئے بات ثابت اور صاف ہے کہ جو کوئی کسی کے دینی و دنیاوی حقوق میں کوتاہی کرے گا وہ شخص اس حق تلفی کی وجہ سے آخرت میں غضب الہی کا شکار ہوگا ، اب حق تلفی کا ظلم عورت پر باپ و بیٹا ،شوہر و بھائی یا دوسرے ذمہ دار مردکر میں یا عورتیں کریں تخصیص کسی کی بھی نہیں ، اسی طرح مرد پرظلم ماں ، بیوی ، بیٹی ، بہن کرے یا دوسری ذمہ دار خواتین کریں سبھی کی پکڑ ہوگی تخصیص کسی کی بھی نہیں ہے۔ اس بات کو بیان کرنے والے اگر تمثیلاً بیان کریں تو علماء کوکسی قسم کا شبہ واشکال نہ ہووے گا، مگر جب بیان کرنے والوں نے تخصیص تعیین پر زور دے کر بیان کیا اور یہ تاثر دیا کہ یہ بات عورت ہی کے ساتھ خاص ہے تو علماء کو اشکال وشبہ ہوا، بل کہ یہ ایک منکر ہوا جس پر حضرات علماء کونکیر کرنی پڑی، چنانچہ متعددعلماءعرب و عجم نے اس وجہ سے اس پر نکیر کی ہے اور اس طرح کی روایت کو خلاف شرع اور باطل قرار دیا ہے۔
Raw Content
١٥١- حدیث : کیا ایک عورت یا مردوں کو جہنم میں لے جاۓ گی؟ خطباء ،عوام الناس اور تبلیغی جماعت میں ایک روایت مشہور ہے، وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب قیامت کے روز گناہ گارعورت کے بارے میں جہنم کا فیصلہ ہوگا تو وہ اللہ سے عرض کرے گی کہ اے ما لک! میرے باپ، میرے بھائی ، میرے شوہر اور میرے بیٹے کے بارے میں بھی جہنم کا فیصلہ سنادیجیے؛ کیوں کہ ان کی ذمے داری تھی کہ مجھے ہدایت کا راستہ دکھاتے ، اللہ کے راستے میں لگاتے ، مگر انھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ اس کی اس بات کے بعد اللہ تعالی فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس عورت کے ساتھ ان چاروں کو بھی منہ کے بل ، بال گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لے جا کر پھینک دو ۔‘‘ تحقيق: عام طور پر یہ روایت اس وقت بیان کی جاتی ہے جب ’’عورت کی بے پردگی پر مردوں کی پکڑ‘‘ کے موضوع پر یا ’’عورتوں کو بلیغ میں لے جانے کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر کچھ کہا اور سنایا جا تا ہے۔ ذیل میں اسی روایت کا چند پہلووں سے جائزہ اور پھر اس پر کلام ملاحظہ ہو: پہلا پھلو: حدیث کی معتبر ومستند کتابوں میں اس مضمون و مفہوم کی کوئی روایت تلاش بسیار کے بعد بھی تا حال کہیں نہیں ملی۔ دوسرا پھلو: اس میں جو بات بیان کی گئی ہے، اس کا مطلب بظاہر یہی نکلتا ہے کہ عورت کی کوتاہی و تقصیر کی اصل ذمے دار وہ خود نہیں ہے؛ بل کہ اس کے ذمے دار چار مرد ہیں: (۱) باپ۔ (۲) بھائی۔ (۳) شوہر۔ (۴) بیٹا۔ یہ چاروں اگر چہ نیک کام کرنے اور ہدایت کا راستہ بتانے والے ہوں، مگر ان کی بیٹی یا بہن ، یا بیوی ، یا ماں اگر گناہ کرے گی تو اس کی سزا ان مردوں کو بھی ملے گی اور جہنم میں جانا پڑے گا ۔ اس مفہوم و مطلب کی صورت میں یہی نہیں کہ یہ روایت غیر ثابت و بے اصل کہلاۓ گی ؛ بل کہ سراسر باطل اور قرآن وحدیث کی تصریحات کے مخالف ہو گی، چناں چہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: من اهتدى فإنما يهتدي لنفسه ومن ضل فإنما يضل عليها ولا تزر وازرة وزر أخرى ) [سوره اسراء] ( جوشخص ( دنیا میں سیدھی راہ پر چلتا ہے، تو وہ اپنے ہی نفع کے لیے چلتا ہے اور جوشخص بے راہی اختیار کرتا ہے، وہ بھی اپنے ہی نقصان کے لیے بے راہ ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔) سورۂ انعام میں اللہ تعالی کا فرمان عالی ہے: ولا تكسب كل نفس إلا عليها ولا تزر وازرة وزر أخرى﴾ [سورة انعام ] ( جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے، وہ اس پر رہتا ہے اور کوئی دوسرے کا بوجھ ( گناہ کا) نہ اٹھاوے گا بل کہ سب اپنی اپنی بھگتیں گے )۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت مفتی شفیع عثمانی صاحب رحمت اللہ رقم فرماتے ہیں کہ عدالت الہیہ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ، وہاں ایک کے گناہ میں دوسرا ہر گز نہیں پکڑا جا سکتا، اسی آیت سے استدلال فرما کر نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا کہ ولد الزنا پر والدین کے جرم کا کوئی اثر نہیں ہوگا، یہ حدیث حاکم به سند صحیح حضرت عائشہ ﷺ سے روایت کی ہے۔ (معارف القرآن:۵۱۰/۳-۵۱۱) قرآن مجید کی ان دو آیتوں کے علاوہ ﴿ سورہ تحریم میں اللہ تعالی حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی کافر بیویوں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کو اہل جہنم میں داخل فرمایا ہے ، مگر ان کے کفروشرک اور فسق و فجور کی پاداش میں ایک الزام وتحقیر کا ایک لفظ بھی حضرات انبیاء کے حق میں استعمال نہیں فرمایا ؛ بل کہ اس احتمال کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کا جواب دے دیا کہ اور فرما دیا کہ یہ دونوں جلیل القدر پیغمبر ہمارے خاص ومقرب بندوں میں سے ہیں اور دونوں ہی صلاح وفلاح والے ہیں ، چناں چہ ارشادربانی ہے: وضرب الله مثلا للذين كفروا امرات نوح و امرات لوط كانتا تحت عبدين من عبادنا صالحين فخانتهما فلم يغنيا عنهما من الله شيئا وقيل ادخلا النار مع الدخلين [سورہ تحریم ] اس سے ظاہر و باہر ہو گیا کہ زیر بحث روایت ثابت نہ ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن وحدیث کے معارض اور قانون اسلامی کے خلاف ہے، لہذا اس کو کسی بھی طرح کسی کے لیے بھی بیان کرنا جائز نہیں ہے۔ تیسرا پھلو: اگر اس کلام کی تاویل میں کوئی یہ کہے کہ اسلام میں مردوں کو گھر والوں کا نگراں وذمے دار بنایا گیا ہے؛ لہذامردوں کے ماتحت رہنے والوں کی بدعملی کے ذمے دار وہ خود ہوں گے ۔ تو یادرکھنا چاہیے کہ اپنے ماتحتوں ومتعلقین کی تعلیم وتربیت کے باب میں تنہا مردہی ذمے دار نہیں ہیں؛ بل کہ عورتیں بھی برابر کی شریک اور ذمے دار ہیں، چناں چہ نبی اکرم ﷺ کی حدیث صحیح میں صاف صاف مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : المرأة راعية على بيت بعلها ، و ولده ، وهي مسئولة عنهم‘‘ (عورت اپنے شوہر کے گھر کی اور بچوں کی نگران و ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں بھی سوال یعنی حساب و کتاب ہوگا۔) لہذا جس طرح عورت کی تعلیم وتربیت میں اگر اس کے ذمے دار مردکی وکوتاہی کر یں گے ، تو ان کی پڑ کی جائے گی ، اسی طرح اگر مردوں کی تعلیم وتربیت اور ان کی خیر خواہی کی ذمے دار خواتین اگر کوتاہی وغفلت برتیں گئیں، تو ان کی بھی برابر پکڑ ہوگی۔ (البخاري:٢٥٥٤،مسلم:٤٨٢٨) چوتھا پهلو: امام بیہقی رحمہ اللہ کی شعب الایمان:۸۲۲۶‘‘ میں اور ان ہی کے حوالے سے ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے ’’باب الولي في النكاح واستئذان المرأة “ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: "من ولد له ولد فليحسن اسمه ، و أدبه ، فإذا بلغ فليزوجه ، فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إنما فإنما إثمه على أبيه.» (جس کے یہاں اولاد پیدا ہو، تو اس کو چاہیے کہ اس کا نام اچھارکھے اور اس کی صحیح پرورش کرے۔ پھر جب وہ بالغ ہو جاۓ ، تو شادی کر دے؛ کیوں کہ اگر یہ اولاد بالغ ہوئی اور اس نے ان کی شادی نہیں کی اور اس اولادنے کوئی گناہ کرلیا، تو اس کے گناہ کا وبال اس کے باپ پر ہوگا ۔ ) اسی طرح ’’شعب الایمان: ٨٦٧٠" میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ” في التوراة مكتوب من بلغت إبنته إثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فأصابت إنما قاثم ذلک علیہ‘‘ ( تورات میں لکھا ہوا ہے کہ جس کی بیٹی بارہ برس کی ہوگئی بالغ ہوگئی اور باپ نے اس کی شادی نہیں کی اور اس لڑکی نے جنسی گناہ کر لیا، تو اس کا گناہ [ وبال] اس کے باپ پر ہوگا )۔ ان دوروایات کا حاصل یہ ہے کہ اولادکوصحیح تعلیم وتربیت نہیں دی گئی اوران کی تربیت میں والدین نے مجرمانہ حد تک کوتاہی برتی ، تو اس اولاد کی برائیوں کا وبال والدین کو بھی چکھنا پڑے گا ، اولاد کو تو ارتکاب جرم کی وجہ سے اور اس کے والدین کواولاد کی صحیح تربیت کرنے میں کوتاہی برتنے کی وجہ سے۔ پانچواں پھلو: ” تفسیر ابن جریرطبری:۳۲/۷-۳۳‘‘ میں، «تفسیر ابن ابی حاتم ، رقم : ۵۳۳۵ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ منقول ہے کہ قیامت کے دن حساب ہوگا تو بندے کا ہاتھ پکڑ کر یا بندی کا ہاتھ پکڑ کر سامنے لا کے کھڑا کر دیا جائے گا، اور ایک ندالگانے والا فرشتہ تمام اولین و آخرین لوگوں کے سامنے ندا لگائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں ہے ،اس پر جس کسی کا حق ہے وہ آۓ اوراپناحق وصول کر لے، یہ سنتے ہی عورت چاہے گی کہ کسی طرح اس کاحق نکل آۓ چاہے باپ پر ہو، یا بھائی پر ہو، یا شوہر پر ہو، الخ عربی عبارت یہ ہے: "قال عبد الله بن مسعود ﷺ : يؤخذ بيد العبد و الأمة يوم القيامة فينادي مناد على رؤوس الأولين و الآخرين : هذا فلان بن فلان ، من كان له حق فليأت الى حقه ، فتفرح المرأة أن يذوب لها الحق على أبيها أو على أخيها ، أو على زوجها ؛ اهـ“ ’’ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی والا کلام سنانے والے شاید اس روایت کو بنیاد بنائیں مگر چند امور قابل غور ہیں: امر اول : ایک عورت اور چار مردوں کی تخصیص صحیح نہیں ، اس لئے کہ جس طرح عورت کا ذکر ہے اسی طرح ایک روایت میں مرد کا بھی ذکر ہے کہ فرشتے کے اس اعلان کو سن کر مر د بھی چاہے گا کہ اس کا حق باپ پر ، یا بیٹے پر ، یا بیوی پر ، یا بہن پر نکل آۓ ۔ چنانچہ امام طبری کی روایت کے الفاظ ہیں: "فيفرح - والله - المرء أن يدور له الحق على والده ، أو ولده ، أو زوجته ، أو أخته فيأخذه منه و ان كان صغيراً ، اهـ“ لیجیے جس طرح عورت کا ذکر ہے اسی طرح مرد کا بھی ذکر ہے۔ امر دوم : تخصیص اس لیے بھی میچ نہیں ؛ کیوں کہ روایت میں مرداور عورت دونوں کے حساب و کتاب کا ذکر ہے، چنانچہ امام طبری کی روایت میں الفاظ ہیں:”يؤخذ بيد العبد و الأمة ‘‘اورامام ابن ابی حاتم کی روایت کے الفاظ ہیں: یؤتى بالعبد و الأمة ‘‘۔ امر سوم : یہ تو روایتا تخصیص نہ کرنے پر قرائن ہیں تخصیص کے صحیح نہ ہونے پر سب سے بڑی دلیل درایت اور نصوص شرع ہیں ، چنانچہ آخرت میں جس طرح عورت کو مردوں سے اپنا حق وصول کرنے کا حق ملے گا اسی طرح مردکو بھی عورتوں سے اپناحق وصول کرنے کا حق ملے گا۔ حقیقی انصاف کے دن صرف عورت کے ساتھ اور مرد کے ساتھ بے انصافی نہیں ہو گی۔ بلکہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کے لئے می اعلان ہوگا ( سابقہ سطور میں چند روایت جونقل کی گئیں وہ اس کی واضح دلیل ہیں)۔ امر چهارم : آخرت کے امور سے متعلق ہونے کی بنا پر کوئی اس موقوف حدیث کو حکما مرفوع خیال نہ کرے، اس لئے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد از قبیل سماع من النبی ﷺ سے نہیں ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ یہ از قبيل الاستنباط من الآيات بطريق التدبر فیھا ہو، چنانچہ روایت میں تصریح ہے ثم قرأ ابن مسعود فلا أنساب بينهم يوميد ولا يتساء لون‘‘۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ ہیں:’’ومصداق ذلك في كتاب الله‘‘۔ حاصل کلام خلاصہ یہ کہ ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گئی والی بات جس طرح کی تخصیص تعیین کے تاثر ظاہر کے ساتھ بیانات ،اختبارات واشتہارات میں نقل کی جاتی ہے اس طرح آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، بلکہ اس طرح کی تخصیص کرنا نصوص شرع میں تغیر وتبدل کا باعث ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے ۔اور اس طرح بیان کرنا بھی صحیح نہیں ہے ۔ دیکھئے بات ثابت اور صاف ہے کہ جو کوئی کسی کے دینی و دنیاوی حقوق میں کوتاہی کرے گا وہ شخص اس حق تلفی کی وجہ سے آخرت میں غضب الہی کا شکار ہوگا ، اب حق تلفی کا ظلم عورت پر باپ و بیٹا ،شوہر و بھائی یا دوسرے ذمہ دار مردکر میں یا عورتیں کریں تخصیص کسی کی بھی نہیں ، اسی طرح مرد پرظلم ماں ، بیوی ، بیٹی ، بہن کرے یا دوسری ذمہ دار خواتین کریں سبھی کی پکڑ ہوگی تخصیص کسی کی بھی نہیں ہے۔ اس بات کو بیان کرنے والے اگر تمثیلاً بیان کریں تو علماء کوکسی قسم کا شبہ واشکال نہ ہووے گا، مگر جب بیان کرنے والوں نے تخصیص تعیین پر زور دے کر بیان کیا اور یہ تاثر دیا کہ یہ بات عورت ہی کے ساتھ خاص ہے تو علماء کو اشکال وشبہ ہوا، بل کہ یہ ایک منکر ہوا جس پر حضرات علماء کونکیر کرنی پڑی، چنانچہ متعددعلماءعرب و عجم نے اس وجہ سے اس پر نکیر کی ہے اور اس طرح کی روایت کو خلاف شرع اور باطل قرار دیا ہے۔
Fields
مروجہ موضوع احادیث کا علمی جائزہ
Back