مقررین اور مبلغین کے درمیان حدیث کے نام سے ایک بات بڑی مشہور ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے علماء کی زیارت کی ، اس نے گویا میری زیارت کی اور جو علماء سے مصافحہ کرتا ہے، گویا وہ مجھ سے مصافحہ کرتا ہے اور جو علماء کی صحبت میں رہتا ہے، گویاوہ میری صحبت میں رہتا ہے اور یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ جو میری صحبت میں دنیا کے اندر رہتا، وہ قیامت کے دن بھی میرے ساتھ میری رفاقت میں رہے گا۔
اسی کو بعض اوقات اختصار کے ساتھ اس طرح بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جو علماء کی زیارت کرتا ہے، وہ اس خوش نصیب کی طرح ہے، جونبیوں کی زیارت سے مشرف ہوتا ہے۔
تحقيق:
یہ دراصل ان روایات کی ترجمانی ہے، جنھیں حضرات محققین محدثین نے موضوع و منگھڑت مرویات میں شمار کیا ہے ، چناں چہ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے ’’ذیل الموضوعات : ۱۵۸‘‘ میں تین روایات نقل کی ہیں:
(۱) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی گئی ہے:
"من زار عالما فكمن زارني ، ومن صافح عالما فكمن صافحني ، ومن جالس عالماً فكمن جالسني ، و من جالسني في الدنيا أجلسه الله تعالى معي غداً في الجنة.
حافظ ذہبی رحمہ اللہ ’’میزان الاعتدال:۲۹۲/۶‘‘ میں محمد بن غائم کے ترجمے میں یہی روایت نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ "لا يدرى من هو في سند مظلم‘‘۔حافظ ابن عراق رحمہ اللہ تنزيه الشريعة:۳۱۱/١ پر لکھتے ہیں کہ امام ابن النجار نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے، ایسے قصے میں جو واضح طور پر گھڑا گیا ہے۔ بہر حال امام ابن النجار ، حافظ ذہبی ، حافظ سیوطی اور حافظ ابن عراق کنانی رحمہم اللہ کی تحقیق کے بموجب مین گھڑت روایت ہے۔ (۲) مسندفردوس دیلمی‘‘ کے حوالے حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری سند سے روایت نقل کی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:’’إن لله عزوجل مدينة تحت العرش مسك أذفر ، على بابها ملك ينادي كل يوم : ألا من زار العلماء فقد زار الأنبياء ، ومن زار الأنبياء فقد زار الرب عزوجل ، ومن زار الرب فله الجنة“ (ذيل الموضوعات: ۱۵۹)
حافظ سیوطی رحمہ اللہ کے بقول اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن سلیمان بھی ہے، جس پر سرقہ حدیث کی جرح ہے۔ مگر حافظ ابن عراق رحمہ اللہ کے بقول یہ راوی مختلف فیہ راوی ہے، مگر اس سے روایت کرنے والا ، جو دوسرا راوی عمران بن سہل نامی ہے، وہ مجہول ہے اور اس کا ذکر کرتے ہوۓ لکھتے ہيں لم أقف له على ترجمة ، فلعل البلاء منه ‘‘ ( میں اس کے حالات سے واقف نہیں اور غالباً یہ مصیبت حدیث کے موضوع ہونے کی اس کی طرف سے ہے)
( تنزيه الشريعة: ۳۱۱/۱)
(۳) تیسری مرفوع روایت ابونعیم کے حوالے سے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے کہ ”من زارالعلماء فكأنما زارني ، ومن صافح العلماء فكأنما صافحني ، ومن جالس العلماء فكأنما جالسني ، و من جالسني في الدنيا أجلس إلي يوم القيامة . وفي لفظ : أجلسه ربي معي في الجنة يوم القيامة‘‘۔
( ذيل الموضوعات: ١٦٠)
مگر اس میں ایک راوی حفص بن عمر ہے۔حافظ سیوطی ، حافظ بن عراق رحمہما اللہ اور دیگر حضرات کے بقول اس سے مراد حفص بن عمر بن ابی العطاف بن ابی العطاف السہمی المدنی مراد ہے ۔ جس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے التاریخ الکبیر:۲۷۸۷‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’منکر الحدیث رماه يحيى بن يحيى النيسابوري بالكذب‘‘ ۔امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے "لا يجوز الاحتجاج به بحال ‘‘ کہا ہے، جب کہ امام ابوحاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں: منكر الحديث ، يكتب حديثه على الضعف الشديد‘‘۔حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ’’میزان الاعتدال‘‘ میں صرف نسائی اور امام بخاری کے قول’’منکر الحدیث ‘‘ ہی کو نقل کیا ہے ۔ جب کہ مستدرک حاکم‘‘ کی تعلیق میں ’واہ‘‘ لکھا ہے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’تقریب‘‘ پران کو’’ ضعیف‘‘اور’’التلخیص: ۱۳۴۱‘‘ میں’’متروک‘‘ کہا ہے۔ اسی طرح حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے بھی’’متروک‘‘ لکھاہے۔
جس سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے کہ یہ شدید ضعیف راوی ہے ۔ جس کی روایت کو صاف صاف موضوع تو نہیں کہا جائے گا؛ بل کہ اس کی روایت کو شد ید ضعیف روایت قرار دیا جاۓ گا ۔۔ چناں چہ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ مجمع الزوائد : ۱۸۰۷‘‘ پر لکھتے ہیں کہ فیہ حفص بن عمر بن أبي العطاف من وهو ضعيف جدا‘‘ ۔اسی طرح (حدیث، رقم :۷۹۹۹، اور رقم: ۸۰۰۰ ) پر لکھتے ہیں که وهو شديد الضعف‘‘ ۔ نیز یہی وہ راوی جس سے ’’تعلموا الفرائض فإنها من دینکم ‘‘ حدیث مروی ہے، جو ابن ماجہ کی ’’سنن:۲۷۱۹‘‘ میں، حاکم کی ’’مستدرک ، رقم : ۷۹۴۸ میں بیہقی کی ’’سنن کبیری: ۲۵۳۷‘‘ میں، دارقطنی کی ’’سنن:۴۱۰۱‘‘ میں موجود ہے ، مگر کسی نے اس روایت کو موضوع نہیں کہا حتی کہ ذہبی نے مستدرک کی تعلیقات میں ، ابن حجر نے’’التلخیص ‘‘ میں صرف اس راوی کے متعلق ’’واہ‘ اور ’متروک‘‘ لکھا ہے۔ روایت پر موضوع کا اطلاق نہیں کیا۔ نیز ابن الملقن رحمہ اللہ نے ’’البدر المنير ‘‘ میں کتاب الفرائض کی دوسری حدیث کی تحقیق وتخریج کرتے ہوۓ لکھتے ہیں کہ وهو حديث ضعيف ؛لأن في اسناده حفص بن عمر بن أبي العطاف المدني -
(تهذيب الكمال:٣٨/٧-٤٠، التقريب:١٤١٨ ١٤ ،میزان الاعتدال: ۳۲۲/۲، البدر المنير: ۱۸۷/۷) علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے ’’الفوائد الجموعہ: ۳۹‘‘ میں ، ملا علی قاری رحمہ اللہ نے ”المصنوع: ۳۳۵‘ میں، علامہ طاہر پٹنی امیہ نے’’ تذکرۃ الموضوعات:۶‘‘ رحمہ اللہ اس راوی کو کذاب ‘‘ جو کہاہے یہ بات امام ابو حاتم ،امام نسائی ، امام ابن حبان امام ذہبی امام ابن حجر اور امام ابن المقلن رحمهم الله کی تحقیق کے برخلاف ہے؛ کیوں کہ اس کو کسی نے بھی کذاب نہیں کہا، نیزان ائمہ نے اس کی مرویات پر صرف ضعف کا حکم لگایا ہے ، موضوع و مکذوب کا نہیں ۔
اس کے برعکس دور حاضر کے عربی عالم اور ذیل الموضوعات‘‘ کے تحقیق نگار شیخ رامز خالد حاج حسن کے مطابق اس سند میں حفص بن عمر سے مراد حفص بن عمر بن میمون العدنی ہے۔اگر ایسا ہے تو بھی اس روایت کو موضوع اس لیے نہیں کہا جاۓ گا؛ کیوں کہ یہ بھی صرف ضعیف راوی ہے اور اول الذکر کے بہ نسبت کچھ غنیمت ہی ہے۔ جس پر زیادہ سے زیادہ جو جرح منقول ہے، وہ یہ ہے: لین
الحديث ، ليس بثقه ،عامة حديثه غير محفوظ۔ (دیکھئے: تقریب: ١٤٢٠،ميزان الاعتدال: ۳۲۳/۲،تهذيب الكمال:٤٢/٧)
حاصل تحقيق وخلاصۂ کلام:
الغرض اول الذکر روایت کی سند کو امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’’سند مظلم‘‘ قراردیا ہے اور امام ابن النجار نے اس کے قصہ کو ظاہر الوضع لکھا ہے، جس کی وجہ سے حافظ سیوطی و ابن عراق رحمہما اللہ نے بھی اس کو موضوع تسلیم کیا ہے ۔ جب کہ ثانی الذکر روایت کی سند میں حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے جس راوی کی وجہ سے موضوع مانا ہے ، وہ راوی ایسا نہیں کہ اس کی وجہ سے روایت کو موضوع کہا جاۓ جیسا کہ حافظ کنانی رحمہ اللہ کا بھی یہی کہنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ حافظ کنانی کی راۓ میں عمران بن سہل جو کہ مجہول و غیر معلوم راوی ہے، اس کی بنا پر اس کو موضوع کہا جاۓ گا اور رہی بات ثالث الذکر روایت کی تو اوپر بندے نے تحقیق پیش کر دی ہے ، جس کی وجہ سے روایت کو شدید ضعیف کہا جائے گا مگر صریح موضوع تو نہیں کہا جاۓ گا ؛ بل کہ دوضعیف اسانید سے مروی آخر الذکر دو روایات کی بنا پر اصولاً یہ ماننا پڑے گا کہ اس روایت کی کچھ نہ کچھ اصل ضرور ہے۔
مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ فنی وظاہری تحقیق سے ہٹ کر ان ائمہ حدیث کے سامنے ایسے دقیق اسباب اور غوامض ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے ایسی روایات کو درجہ موضوع یا اس کے قریب ذکر کرتے ہیں اور غالبا یہی وجہ ہے کہ ان میں سے کسی کی بھی تحقیق کرتے ہوۓ ایک دوسرے کی تقویت و تائید کے لیے محدثین نے کوئی روایت ذکر بھی نہیں کی ؛ اس لیے اپنے ان بڑوں کی تحریر پر اعتماد کرتے ہوئے یہ کہنا ہی معتدل بات ہوگی کہ بلحاظ اصول حدیث صریح موضوع تو نہیں، مگر بموجب تصریحات محدثین اس قابل بھی نہیں کہ ان روایات کو بغیر بیان حقیقت ذکر کیا جاۓ ؛ اس لیے اس قسم کی روایات کا بیان نہ کرنا بہتر وافضل اور مبنی بر احتیاط ہے۔ واللہ اعلم
Raw Content
١٥٢- حدیث:علماء کی زیارت ، نبی کی زیارت کی طرح ہے مقررین اور مبلغین کے درمیان حدیث کے نام سے ایک بات بڑی مشہور ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے علماء کی زیارت کی ، اس نے گویا میری زیارت کی اور جو علماء سے مصافحہ کرتا ہے، گویا وہ مجھ سے مصافحہ کرتا ہے اور جو علماء کی صحبت میں رہتا ہے، گویاوہ میری صحبت میں رہتا ہے اور یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ جو میری صحبت میں دنیا کے اندر رہتا، وہ قیامت کے دن بھی میرے ساتھ میری رفاقت میں رہے گا۔
اسی کو بعض اوقات اختصار کے ساتھ اس طرح بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جو علماء کی زیارت کرتا ہے، وہ اس خوش نصیب کی طرح ہے، جونبیوں کی زیارت سے مشرف ہوتا ہے۔
تحقيق:
یہ دراصل ان روایات کی ترجمانی ہے، جنھیں حضرات محققین محدثین نے موضوع و منگھڑت مرویات میں شمار کیا ہے ، چناں چہ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے ’’ذیل الموضوعات : ۱۵۸‘‘ میں تین روایات نقل کی ہیں:
(۱) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی گئی ہے:
"من زار عالما فكمن زارني ، ومن صافح عالما فكمن صافحني ، ومن جالس عالماً فكمن جالسني ، و من جالسني في الدنيا أجلسه الله تعالى معي غداً في الجنة.
حافظ ذہبی رحمہ اللہ ’’میزان الاعتدال:۲۹۲/۶‘‘ میں محمد بن غائم کے ترجمے میں یہی روایت نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ "لا يدرى من هو في سند مظلم‘‘۔حافظ ابن عراق رحمہ اللہ تنزيه الشريعة:۳۱۱/١ پر لکھتے ہیں کہ امام ابن النجار نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے، ایسے قصے میں جو واضح طور پر گھڑا گیا ہے۔ بہر حال امام ابن النجار ، حافظ ذہبی ، حافظ سیوطی اور حافظ ابن عراق کنانی رحمہم اللہ کی تحقیق کے بموجب مین گھڑت روایت ہے۔ (۲) مسندفردوس دیلمی‘‘ کے حوالے حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری سند سے روایت نقل کی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:’’إن لله عزوجل مدينة تحت العرش مسك أذفر ، على بابها ملك ينادي كل يوم : ألا من زار العلماء فقد زار الأنبياء ، ومن زار الأنبياء فقد زار الرب عزوجل ، ومن زار الرب فله الجنة“ (ذيل الموضوعات: ۱۵۹)
حافظ سیوطی رحمہ اللہ کے بقول اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن سلیمان بھی ہے، جس پر سرقہ حدیث کی جرح ہے۔ مگر حافظ ابن عراق رحمہ اللہ کے بقول یہ راوی مختلف فیہ راوی ہے، مگر اس سے روایت کرنے والا ، جو دوسرا راوی عمران بن سہل نامی ہے، وہ مجہول ہے اور اس کا ذکر کرتے ہوۓ لکھتے ہيں لم أقف له على ترجمة ، فلعل البلاء منه ‘‘ ( میں اس کے حالات سے واقف نہیں اور غالباً یہ مصیبت حدیث کے موضوع ہونے کی اس کی طرف سے ہے)
( تنزيه الشريعة: ۳۱۱/۱)
(۳) تیسری مرفوع روایت ابونعیم کے حوالے سے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے کہ ”من زارالعلماء فكأنما زارني ، ومن صافح العلماء فكأنما صافحني ، ومن جالس العلماء فكأنما جالسني ، و من جالسني في الدنيا أجلس إلي يوم القيامة . وفي لفظ : أجلسه ربي معي في الجنة يوم القيامة‘‘۔
( ذيل الموضوعات: ١٦٠)
مگر اس میں ایک راوی حفص بن عمر ہے۔حافظ سیوطی ، حافظ بن عراق رحمہما اللہ اور دیگر حضرات کے بقول اس سے مراد حفص بن عمر بن ابی العطاف بن ابی العطاف السہمی المدنی مراد ہے ۔ جس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے التاریخ الکبیر:۲۷۸۷‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’منکر الحدیث رماه يحيى بن يحيى النيسابوري بالكذب‘‘ ۔امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے "لا يجوز الاحتجاج به بحال ‘‘ کہا ہے، جب کہ امام ابوحاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں: منكر الحديث ، يكتب حديثه على الضعف الشديد‘‘۔حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ’’میزان الاعتدال‘‘ میں صرف نسائی اور امام بخاری کے قول’’منکر الحدیث ‘‘ ہی کو نقل کیا ہے ۔ جب کہ مستدرک حاکم‘‘ کی تعلیق میں ’واہ‘‘ لکھا ہے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’تقریب‘‘ پران کو’’ ضعیف‘‘اور’’التلخیص: ۱۳۴۱‘‘ میں’’متروک‘‘ کہا ہے۔ اسی طرح حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے بھی’’متروک‘‘ لکھاہے۔
جس سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے کہ یہ شدید ضعیف راوی ہے ۔ جس کی روایت کو صاف صاف موضوع تو نہیں کہا جائے گا؛ بل کہ اس کی روایت کو شد ید ضعیف روایت قرار دیا جاۓ گا ۔۔ چناں چہ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ مجمع الزوائد : ۱۸۰۷‘‘ پر لکھتے ہیں کہ فیہ حفص بن عمر بن أبي العطاف من وهو ضعيف جدا‘‘ ۔اسی طرح (حدیث، رقم :۷۹۹۹، اور رقم: ۸۰۰۰ ) پر لکھتے ہیں که وهو شديد الضعف‘‘ ۔ نیز یہی وہ راوی جس سے ’’تعلموا الفرائض فإنها من دینکم ‘‘ حدیث مروی ہے، جو ابن ماجہ کی ’’سنن:۲۷۱۹‘‘ میں، حاکم کی ’’مستدرک ، رقم : ۷۹۴۸ میں بیہقی کی ’’سنن کبیری: ۲۵۳۷‘‘ میں، دارقطنی کی ’’سنن:۴۱۰۱‘‘ میں موجود ہے ، مگر کسی نے اس روایت کو موضوع نہیں کہا حتی کہ ذہبی نے مستدرک کی تعلیقات میں ، ابن حجر نے’’التلخیص ‘‘ میں صرف اس راوی کے متعلق ’’واہ‘ اور ’متروک‘‘ لکھا ہے۔ روایت پر موضوع کا اطلاق نہیں کیا۔ نیز ابن الملقن رحمہ اللہ نے ’’البدر المنير ‘‘ میں کتاب الفرائض کی دوسری حدیث کی تحقیق وتخریج کرتے ہوۓ لکھتے ہیں کہ وهو حديث ضعيف ؛لأن في اسناده حفص بن عمر بن أبي العطاف المدني -
(تهذيب الكمال:٣٨/٧-٤٠، التقريب:١٤١٨ ١٤ ،میزان الاعتدال: ۳۲۲/۲، البدر المنير: ۱۸۷/۷) علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے ’’الفوائد الجموعہ: ۳۹‘‘ میں ، ملا علی قاری رحمہ اللہ نے ”المصنوع: ۳۳۵‘ میں، علامہ طاہر پٹنی امیہ نے’’ تذکرۃ الموضوعات:۶‘‘ رحمہ اللہ اس راوی کو کذاب ‘‘ جو کہاہے یہ بات امام ابو حاتم ،امام نسائی ، امام ابن حبان امام ذہبی امام ابن حجر اور امام ابن المقلن رحمهم الله کی تحقیق کے برخلاف ہے؛ کیوں کہ اس کو کسی نے بھی کذاب نہیں کہا، نیزان ائمہ نے اس کی مرویات پر صرف ضعف کا حکم لگایا ہے ، موضوع و مکذوب کا نہیں ۔
اس کے برعکس دور حاضر کے عربی عالم اور ذیل الموضوعات‘‘ کے تحقیق نگار شیخ رامز خالد حاج حسن کے مطابق اس سند میں حفص بن عمر سے مراد حفص بن عمر بن میمون العدنی ہے۔اگر ایسا ہے تو بھی اس روایت کو موضوع اس لیے نہیں کہا جاۓ گا؛ کیوں کہ یہ بھی صرف ضعیف راوی ہے اور اول الذکر کے بہ نسبت کچھ غنیمت ہی ہے۔ جس پر زیادہ سے زیادہ جو جرح منقول ہے، وہ یہ ہے: لین
الحديث ، ليس بثقه ،عامة حديثه غير محفوظ۔ (دیکھئے: تقریب: ١٤٢٠،ميزان الاعتدال: ۳۲۳/۲،تهذيب الكمال:٤٢/٧)
حاصل تحقيق وخلاصۂ کلام:
الغرض اول الذکر روایت کی سند کو امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’’سند مظلم‘‘ قراردیا ہے اور امام ابن النجار نے اس کے قصہ کو ظاہر الوضع لکھا ہے، جس کی وجہ سے حافظ سیوطی و ابن عراق رحمہما اللہ نے بھی اس کو موضوع تسلیم کیا ہے ۔ جب کہ ثانی الذکر روایت کی سند میں حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے جس راوی کی وجہ سے موضوع مانا ہے ، وہ راوی ایسا نہیں کہ اس کی وجہ سے روایت کو موضوع کہا جاۓ جیسا کہ حافظ کنانی رحمہ اللہ کا بھی یہی کہنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ حافظ کنانی کی راۓ میں عمران بن سہل جو کہ مجہول و غیر معلوم راوی ہے، اس کی بنا پر اس کو موضوع کہا جاۓ گا اور رہی بات ثالث الذکر روایت کی تو اوپر بندے نے تحقیق پیش کر دی ہے ، جس کی وجہ سے روایت کو شدید ضعیف کہا جائے گا مگر صریح موضوع تو نہیں کہا جاۓ گا ؛ بل کہ دوضعیف اسانید سے مروی آخر الذکر دو روایات کی بنا پر اصولاً یہ ماننا پڑے گا کہ اس روایت کی کچھ نہ کچھ اصل ضرور ہے۔
مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ فنی وظاہری تحقیق سے ہٹ کر ان ائمہ حدیث کے سامنے ایسے دقیق اسباب اور غوامض ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے ایسی روایات کو درجہ موضوع یا اس کے قریب ذکر کرتے ہیں اور غالبا یہی وجہ ہے کہ ان میں سے کسی کی بھی تحقیق کرتے ہوۓ ایک دوسرے کی تقویت و تائید کے لیے محدثین نے کوئی روایت ذکر بھی نہیں کی ؛ اس لیے اپنے ان بڑوں کی تحریر پر اعتماد کرتے ہوئے یہ کہنا ہی معتدل بات ہوگی کہ بلحاظ اصول حدیث صریح موضوع تو نہیں، مگر بموجب تصریحات محدثین اس قابل بھی نہیں کہ ان روایات کو بغیر بیان حقیقت ذکر کیا جاۓ ؛ اس لیے اس قسم کی روایات کا بیان نہ کرنا بہتر وافضل اور مبنی بر احتیاط ہے۔ واللہ اعلم