Content Details

ID
904
Title
١٥٣- حدیث : عالم و طالب علم کی برکت سے عذاب کا اٹھا لیا جانا
Description
ہماری تبلیغی جماعت کے بے شمار افراد کو علما کی فضیلت کے عنوان پر بیان کرتے ہوۓ بارہا سنا ہے کہ ہمارے بڑے سناتے ہیں کہ حدیث میں نبی پاک ﷺ نے ارشادفرمایا: عالم دین اور طالب علم کا گزرکسی بستی پر سے ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی اس بستی کے قبرستان سے چالیس دنوں تک عذاب اٹھا لیتے ہیں ۔ یہ دراصل مفہوم ہے اس روایت کا جس کے الفاظ یہ ہیں : "إن العالم ، والمتعلم إذا مرا على قرية ، فإن الله يرفع العذاب عن مقبرة تلك القرية أربعين يوما.“ تحقيق علامہ تفتازانی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب: شرح العقائد النسفیۃ‘‘ میں اس روایت کو ذکر کیا ہے ، مگر حضرات محدثین عظام کی تحقیق کے مطابق یہ ایک بے اصل و بے سند اور موضوع حدیث ہے۔چناں چہ امام ملا علی قاری رحمہ اللہ"فرائد القلائد على أحاديث شرح العقائد‘‘اور’’الموضوعات الصغرى والكبرى“؛ ان تینوں کتابوں میں اس روایت کی بابت حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی تحقیق تحریر فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ’لا اصل لہ‘‘ ( اس کی کوئی اصل سند نہیں ہے۔) علامہ عجلونی ، قاوقجی اور علامہ کرمی ، یہ حضرات محدثین بھی حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی اس تحقیق سے متفق ہیں لہذا یہ حدیث بے اصل اور موضوع ہے۔ علامہ عجلونی رحمہ اللہ نے مزید ایک موضوع روایت ذکر کی ہے کہ امام ثعلبی اور بہت سارے مفسرین حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت نقل کرتے ہیں: "إن القوم ليبعث الله عليهم العذاب حتماً مقضيا ، فيقرأ الصبي من صبيانهم في الكتاب : الحمد لله رب العالمين» فيسمعه الله تعالى ، فيرفع الله عنهم بذلك عذاب أربعين سنة. “ ( کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن کے حق میں اللہ تعالی عذاب کا حتمی فیصلہ فرما دیتے ہیں، مگر ان کے بچوں میں سے کوئی بچہ الحمد لله رب العالمين پڑھنا شروع کرتا ہے اور اللہ تعالی سن لیتے ہیں ، تو پھر ان لوگوں سے چالیس سال کے عذاب کو دور کر دیتے ہیں۔) یہ روایت نقل کر کے علامہ عجلونی رحمہ اللہ لکھتے فإنه موضوع كما قاله الحافظ العراقي وغيره ، و قيل: إنه ضعيف . ( یہ موضوع ہے، جیسا کہ حافظ عراقی وغیرہ ائمہ نے کہا ہے اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے۔) (فرائد القلائد :۱۳، کشف الخفاء: ١/ ٢٤٩، الأسرار المرفوعة: ١٤٢، المصنوع :٥٨، اللؤلؤ المرصوع: 53 الفوائد الموضوعة : ١٣١ )
Raw Content
١٥٣- حدیث : عالم و طالب علم کی برکت سے عذاب کا اٹھا لیا جانا ہماری تبلیغی جماعت کے بے شمار افراد کو علما کی فضیلت کے عنوان پر بیان کرتے ہوۓ بارہا سنا ہے کہ ہمارے بڑے سناتے ہیں کہ حدیث میں نبی پاک ﷺ نے ارشادفرمایا: عالم دین اور طالب علم کا گزرکسی بستی پر سے ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی اس بستی کے قبرستان سے چالیس دنوں تک عذاب اٹھا لیتے ہیں ۔ یہ دراصل مفہوم ہے اس روایت کا جس کے الفاظ یہ ہیں : "إن العالم ، والمتعلم إذا مرا على قرية ، فإن الله يرفع العذاب عن مقبرة تلك القرية أربعين يوما.“ تحقيق علامہ تفتازانی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب: شرح العقائد النسفیۃ‘‘ میں اس روایت کو ذکر کیا ہے ، مگر حضرات محدثین عظام کی تحقیق کے مطابق یہ ایک بے اصل و بے سند اور موضوع حدیث ہے۔چناں چہ امام ملا علی قاری رحمہ اللہ"فرائد القلائد على أحاديث شرح العقائد‘‘اور’’الموضوعات الصغرى والكبرى“؛ ان تینوں کتابوں میں اس روایت کی بابت حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی تحقیق تحریر فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ’لا اصل لہ‘‘ ( اس کی کوئی اصل سند نہیں ہے۔) علامہ عجلونی ، قاوقجی اور علامہ کرمی ، یہ حضرات محدثین بھی حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی اس تحقیق سے متفق ہیں لہذا یہ حدیث بے اصل اور موضوع ہے۔ علامہ عجلونی رحمہ اللہ نے مزید ایک موضوع روایت ذکر کی ہے کہ امام ثعلبی اور بہت سارے مفسرین حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت نقل کرتے ہیں: "إن القوم ليبعث الله عليهم العذاب حتماً مقضيا ، فيقرأ الصبي من صبيانهم في الكتاب : الحمد لله رب العالمين» فيسمعه الله تعالى ، فيرفع الله عنهم بذلك عذاب أربعين سنة. “ ( کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن کے حق میں اللہ تعالی عذاب کا حتمی فیصلہ فرما دیتے ہیں، مگر ان کے بچوں میں سے کوئی بچہ الحمد لله رب العالمين پڑھنا شروع کرتا ہے اور اللہ تعالی سن لیتے ہیں ، تو پھر ان لوگوں سے چالیس سال کے عذاب کو دور کر دیتے ہیں۔) یہ روایت نقل کر کے علامہ عجلونی رحمہ اللہ لکھتے فإنه موضوع كما قاله الحافظ العراقي وغيره ، و قيل: إنه ضعيف . ( یہ موضوع ہے، جیسا کہ حافظ عراقی وغیرہ ائمہ نے کہا ہے اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے۔) (فرائد القلائد :۱۳، کشف الخفاء: ١/ ٢٤٩، الأسرار المرفوعة: ١٤٢، المصنوع :٥٨، اللؤلؤ المرصوع: 53 الفوائد الموضوعة : ١٣١ )
Fields
مروجہ موضوع احادیث کا علمی جائزہ
Back