Content Details

ID
905
Title
١٥٤- حدیث:رات کو سونے سے پہلے پانچ کام کرو
Description
ایک صاحب نے ایک پرچہ بھیجا، جس کے سرورق پر عنوان ہے نقش قدم نبی کے ہیں، جنت کے راستے‘‘۔ اس عنوان کے نیچے ایک حدیث درج ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں : ’’سوتے وقت کے عملیات کے سلسلے میں وہ حدیث بہت مشہور ہے، جو آ قا نے مولاۓ علی کرم اللہ وجہہ کو نصیحت فرمائی تھی کہ اے علی رات کو روزانہ پانچ کام کر کے سویا کرو: (۱) چار ہزاردینارصدقہ دے کر سویا کرو۔ (۲) ایک مرتبہ قرآن شریف پڑھ کر سویا کرو ۔ (۳) جنت کی قیمت دے کر سویا کرو ۔ ( ۴ ) دولڑنے والوں میں صلح کرا کر سویا کرو۔ (۵) ایک حج کر کے سویا کرو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! یہ امورتو محال ہیں ۔ ہر رات مجھ سے کب ہو پائیں تو میٹھے مدنی آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشادفر مایا کہ چارمرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر سویا کرو، اس کا ثواب چار ہزار دینا صدقہ کرنے کے برابر ہے۔ تین مرتبہ سورۂ اخلاص «قل هو الله احد پڑھ کر سویا کرو، اس کا ثواب ایک قرآن مجید پڑھنے کے برابر ہے۔ دس مرتبہ استغفار پڑھ کر سویا کرو، اس کا ثواب دو لڑنے والوں میں صلح کرانےکے برابر ہوگا ۔ دس مرتبہ درودشریف پڑھ کر سویا کرو، جنت کی قیمت ادا ہوگی ۔ چار مرتبہ تیسراکلمہ پڑھ کر سویا کرو، ایک حج کا ثواب ملے گا۔ اس پر مولاۓ علی کرم اللہ وجہہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! اب تو میں روزانہ میں اعمال کر کے سویا کروں گا ۔۔ اللہ عز وجل ہمیں بھی اپنے محبوب علیہ الصلاۃ والسلام کی پیاری پیاری سنتوں پر اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرماۓ ۔آمین!‘‘ یہ تھاوہ مکمل پرچہ، جس میں یہ عنوان اور یہ حدیث بالا درج تھی ۔ کس نے لکھا؟ کس نے طبع کیا ؟ ان میں سے کسی بات کا علم نہیں ہے ۔ بس پوچھنے والے نے اس حدیث علی رضی اللہ عنہ کی حقیقت پوچھی کہ یہ حدیث ہے بھی ، یانہیں؟ تحقيق: یہ روایت اور اس کے مطابق عمل ہماری تبلیغی جماعت میں بے حد مشہور ہے، مگر حدیث کی کتابوں میں بے حد تلاش و جستجو کرنے کے بعد کسی کتاب میں اس کا ذکر نہیں ملا حتی کہ موضوعات ومن گھڑت روایات کے تعلق سے جو کتابیں لکھیں گئی ہیں، ان میں بھی اس کا نام ونشان تک نہیں ہے، بظاہر یہ جدید موضوع روایات میں سے ہے۔ اتنا لکھنے کے بعد راقم اپنی حقیق جاری رکھے رہا، یہاں تک کہ شیخ الحدیث مظاہر العلوم سہارن پور محدث عصر حضرت مولانا محمد یونس صاحب رحمہ اللہ کی کتاب: ’’نوادر الحدیث :۱۴۹‘‘ میں حضرت کی تحقیق بھی موصول ہوئی۔ چناں چہ حضرت فرماتے ہیں: ” مجھے معلوم نہیں ، یہاں بھی گزشتہ سال بہت اشاعت ہوئی مختصر طور پر تلاش بھی کی اور دوسرے ارباب علم سے استفسار بھی کیا لیکن کہیں پتہ نہ چلا ، اب اگر آپ تحقیق جستجو فرما کر معلن کا پتہ لگالیں اور پھر ان سے تحقیق کر لیں، تو ہمیں بھی فائدہ ہوگا۔‘‘ نیز حضرت کا جواب’’الیواقیت الغالیہ:۳۰۵/۱‘‘ میں اس طرح لکھا ہوا کہ ہے: حدیث مذکور نہ تو پہلے دیکھنا یاد ہے اور نہ بعد میں تلاش کرنے سے ملی ، حضرت اقدس مفتی محمود صاحب مدظلہ سے سوال کیا، تو فرمایا کہ میرے پاس بھی یہ سوال کہیں سے آیا تھا ، اس حدیث کے متعلق اور باوجود تتبع بالغ کے نہیں ملی ‘‘ اسی طرح مملکت سعودی عربیہ میں موجود وقائم علماء ومفتیان گرامی کی کمیٹی:” اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء‘‘ کے فتاوی میں بھی اس حدیث کے متعلق ایک فتوی ملاء چنانچہ فتاوی للجنۃ الدائمه:۳۲۴/۴،الفتوی، رقم :۹۲۰۴ پرشیخ عبدالعزیز بن عبدالله بن باز اور شیخ عبدالرزاق عفیفی جیسے علماۓ کبار کے نام کی تصریح کے ساتھ یہ تحریر درج ہے: "هذا الحديث لا أصل له ، بل هو من الموضوعات ، من كذب بعض الشيعة كما نبه على ذلك أئمة الحديث.“ اس سے معلوم ہو گیا کہ یہ بے اصل و بے ثبوت اور من گھڑت و خودساختہ حدیث ہے؛ بل کہ شیعہ شنیعہ کی اختراعات میں سے ایک ہے ؛ اس لیے اس قسم کی روایات کا نقل کرنا جائز نہیں ہے ، اس سے احتر از واجب وضروری ہے
Raw Content
١٥٤- حدیث:رات کو سونے سے پہلے پانچ کام کرو ایک صاحب نے ایک پرچہ بھیجا، جس کے سرورق پر عنوان ہے نقش قدم نبی کے ہیں، جنت کے راستے‘‘۔ اس عنوان کے نیچے ایک حدیث درج ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں : ’’سوتے وقت کے عملیات کے سلسلے میں وہ حدیث بہت مشہور ہے، جو آ قا نے مولاۓ علی کرم اللہ وجہہ کو نصیحت فرمائی تھی کہ اے علی رات کو روزانہ پانچ کام کر کے سویا کرو: (۱) چار ہزاردینارصدقہ دے کر سویا کرو۔ (۲) ایک مرتبہ قرآن شریف پڑھ کر سویا کرو ۔ (۳) جنت کی قیمت دے کر سویا کرو ۔ ( ۴ ) دولڑنے والوں میں صلح کرا کر سویا کرو۔ (۵) ایک حج کر کے سویا کرو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! یہ امورتو محال ہیں ۔ ہر رات مجھ سے کب ہو پائیں تو میٹھے مدنی آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشادفر مایا کہ چارمرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر سویا کرو، اس کا ثواب چار ہزار دینا صدقہ کرنے کے برابر ہے۔ تین مرتبہ سورۂ اخلاص «قل هو الله احد پڑھ کر سویا کرو، اس کا ثواب ایک قرآن مجید پڑھنے کے برابر ہے۔ دس مرتبہ استغفار پڑھ کر سویا کرو، اس کا ثواب دو لڑنے والوں میں صلح کرانےکے برابر ہوگا ۔ دس مرتبہ درودشریف پڑھ کر سویا کرو، جنت کی قیمت ادا ہوگی ۔ چار مرتبہ تیسراکلمہ پڑھ کر سویا کرو، ایک حج کا ثواب ملے گا۔ اس پر مولاۓ علی کرم اللہ وجہہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! اب تو میں روزانہ میں اعمال کر کے سویا کروں گا ۔۔ اللہ عز وجل ہمیں بھی اپنے محبوب علیہ الصلاۃ والسلام کی پیاری پیاری سنتوں پر اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرماۓ ۔آمین!‘‘ یہ تھاوہ مکمل پرچہ، جس میں یہ عنوان اور یہ حدیث بالا درج تھی ۔ کس نے لکھا؟ کس نے طبع کیا ؟ ان میں سے کسی بات کا علم نہیں ہے ۔ بس پوچھنے والے نے اس حدیث علی رضی اللہ عنہ کی حقیقت پوچھی کہ یہ حدیث ہے بھی ، یانہیں؟ تحقيق: یہ روایت اور اس کے مطابق عمل ہماری تبلیغی جماعت میں بے حد مشہور ہے، مگر حدیث کی کتابوں میں بے حد تلاش و جستجو کرنے کے بعد کسی کتاب میں اس کا ذکر نہیں ملا حتی کہ موضوعات ومن گھڑت روایات کے تعلق سے جو کتابیں لکھیں گئی ہیں، ان میں بھی اس کا نام ونشان تک نہیں ہے، بظاہر یہ جدید موضوع روایات میں سے ہے۔ اتنا لکھنے کے بعد راقم اپنی حقیق جاری رکھے رہا، یہاں تک کہ شیخ الحدیث مظاہر العلوم سہارن پور محدث عصر حضرت مولانا محمد یونس صاحب رحمہ اللہ کی کتاب: ’’نوادر الحدیث :۱۴۹‘‘ میں حضرت کی تحقیق بھی موصول ہوئی۔ چناں چہ حضرت فرماتے ہیں: ” مجھے معلوم نہیں ، یہاں بھی گزشتہ سال بہت اشاعت ہوئی مختصر طور پر تلاش بھی کی اور دوسرے ارباب علم سے استفسار بھی کیا لیکن کہیں پتہ نہ چلا ، اب اگر آپ تحقیق جستجو فرما کر معلن کا پتہ لگالیں اور پھر ان سے تحقیق کر لیں، تو ہمیں بھی فائدہ ہوگا۔‘‘ نیز حضرت کا جواب’’الیواقیت الغالیہ:۳۰۵/۱‘‘ میں اس طرح لکھا ہوا کہ ہے: حدیث مذکور نہ تو پہلے دیکھنا یاد ہے اور نہ بعد میں تلاش کرنے سے ملی ، حضرت اقدس مفتی محمود صاحب مدظلہ سے سوال کیا، تو فرمایا کہ میرے پاس بھی یہ سوال کہیں سے آیا تھا ، اس حدیث کے متعلق اور باوجود تتبع بالغ کے نہیں ملی ‘‘ اسی طرح مملکت سعودی عربیہ میں موجود وقائم علماء ومفتیان گرامی کی کمیٹی:” اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء‘‘ کے فتاوی میں بھی اس حدیث کے متعلق ایک فتوی ملاء چنانچہ فتاوی للجنۃ الدائمه:۳۲۴/۴،الفتوی، رقم :۹۲۰۴ پرشیخ عبدالعزیز بن عبدالله بن باز اور شیخ عبدالرزاق عفیفی جیسے علماۓ کبار کے نام کی تصریح کے ساتھ یہ تحریر درج ہے: "هذا الحديث لا أصل له ، بل هو من الموضوعات ، من كذب بعض الشيعة كما نبه على ذلك أئمة الحديث.“ اس سے معلوم ہو گیا کہ یہ بے اصل و بے ثبوت اور من گھڑت و خودساختہ حدیث ہے؛ بل کہ شیعہ شنیعہ کی اختراعات میں سے ایک ہے ؛ اس لیے اس قسم کی روایات کا نقل کرنا جائز نہیں ہے ، اس سے احتر از واجب وضروری ہے
Fields
مروجہ موضوع احادیث کا علمی جائزہ
Back