Contents

Create Content
ID Title Description Actions
905 ١٥٤- حدیث:رات کو سونے سے پہلے پانچ کام کرو ایک صاحب نے ایک پرچہ بھیجا، جس کے سرورق پر عنوان ہے نقش قدم نبی کے ہیں، جنت کے راستے‘‘۔ اس عنوان کے نیچے ایک حدیث درج ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں : ’’سوتے وقت کے عملیات کے سلسلے میں وہ حدیث بہت مشہور ہے، جو آ قا نے مولاۓ علی کرم اللہ وجہہ کو نصیحت فرمائی تھی کہ اے علی رات کو روزانہ پانچ کام کر کے سویا کرو: (۱) چار ہزاردینارصدقہ دے کر سویا کرو۔ (۲) ایک مرتبہ قرآن شریف پڑھ کر سویا کرو ۔ (۳) جنت کی قیمت دے کر سویا کرو ۔ ( ۴ ) دولڑنے والوں میں صلح کرا کر سویا کرو۔ (۵) ایک حج کر کے سویا کرو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! یہ امورتو محال ہیں ۔ ہر رات مجھ سے کب ہو پائیں تو میٹھے مدنی آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشادفر مایا کہ چارمرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر سویا کرو، اس کا ثواب چار ہزار دینا صدقہ کرنے کے برابر ہے۔ تین مرتبہ سورۂ اخلاص «قل هو الله احد پڑھ کر سویا کرو، اس کا ثواب ایک قرآن مجید پڑھنے کے برابر ہے۔ دس مرتبہ استغفار پڑھ کر سویا کرو، اس کا ثواب دو لڑنے والوں میں صلح کرانےکے برابر ہوگا ۔ دس مرتبہ درودشریف پڑھ کر سویا کرو، جنت کی قیمت ادا ہوگی ۔ چار مرتبہ تیسراکلمہ پڑھ کر سویا کرو، ایک حج کا ثواب ملے گا۔ اس پر مولاۓ علی کرم اللہ وجہہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! اب تو میں روزانہ میں اعمال کر کے سویا کروں گا ۔۔ اللہ عز وجل ہمیں بھی اپنے محبوب علیہ الصلاۃ والسلام کی پیاری پیاری سنتوں پر اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرماۓ ۔آمین!‘‘ یہ تھاوہ مکمل پرچہ، جس میں یہ عنوان اور یہ حدیث بالا درج تھی ۔ کس نے لکھا؟ کس نے طبع کیا ؟ ان میں سے کسی بات کا علم نہیں ہے ۔ بس پوچھنے والے نے اس حدیث علی رضی اللہ عنہ کی حقیقت پوچھی کہ یہ حدیث ہے بھی ، یانہیں؟ تحقيق: یہ روایت اور اس کے مطابق عمل ہماری تبلیغی جماعت میں بے حد مشہور ہے، مگر حدیث کی کتابوں میں بے حد تلاش و جستجو کرنے کے بعد کسی کتاب میں اس کا ذکر نہیں ملا حتی کہ موضوعات ومن گھڑت روایات کے تعلق سے جو کتابیں لکھیں گئی ہیں، ان میں بھی اس کا نام ونشان تک نہیں ہے، بظاہر یہ جدید موضوع روایات میں سے ہے۔ اتنا لکھنے کے بعد راقم اپنی حقیق جاری رکھے رہا، یہاں تک کہ شیخ الحدیث مظاہر العلوم سہارن پور محدث عصر حضرت مولانا محمد یونس صاحب رحمہ اللہ کی کتاب: ’’نوادر الحدیث :۱۴۹‘‘ میں حضرت کی تحقیق بھی موصول ہوئی۔ چناں چہ حضرت فرماتے ہیں: ” مجھے معلوم نہیں ، یہاں بھی گزشتہ سال بہت اشاعت ہوئی مختصر طور پر تلاش بھی کی اور دوسرے ارباب علم سے استفسار بھی کیا لیکن کہیں پتہ نہ چلا ، اب اگر آپ تحقیق جستجو فرما کر معلن کا پتہ لگالیں اور پھر ان سے تحقیق کر لیں، تو ہمیں بھی فائدہ ہوگا۔‘‘ نیز حضرت کا جواب’’الیواقیت الغالیہ:۳۰۵/۱‘‘ میں اس طرح لکھا ہوا کہ ہے: حدیث مذکور نہ تو پہلے دیکھنا یاد ہے اور نہ بعد میں تلاش کرنے سے ملی ، حضرت اقدس مفتی محمود صاحب مدظلہ سے سوال کیا، تو فرمایا کہ میرے پاس بھی یہ سوال کہیں سے آیا تھا ، اس حدیث کے متعلق اور باوجود تتبع بالغ کے نہیں ملی ‘‘ اسی طرح مملکت سعودی عربیہ میں موجود وقائم علماء ومفتیان گرامی کی کمیٹی:” اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء‘‘ کے فتاوی میں بھی اس حدیث کے متعلق ایک فتوی ملاء چنانچہ فتاوی للجنۃ الدائمه:۳۲۴/۴،الفتوی، رقم :۹۲۰۴ پرشیخ عبدالعزیز بن عبدالله بن باز اور شیخ عبدالرزاق عفیفی جیسے علماۓ کبار کے نام کی تصریح کے ساتھ یہ تحریر درج ہے: "هذا الحديث لا أصل له ، بل هو من الموضوعات ، من كذب بعض الشيعة كما نبه على ذلك أئمة الحديث.“ اس سے معلوم ہو گیا کہ یہ بے اصل و بے ثبوت اور من گھڑت و خودساختہ حدیث ہے؛ بل کہ شیعہ شنیعہ کی اختراعات میں سے ایک ہے ؛ اس لیے اس قسم کی روایات کا نقل کرنا جائز نہیں ہے ، اس سے احتر از واجب وضروری ہے View Edit
904 ١٥٣- حدیث : عالم و طالب علم کی برکت سے عذاب کا اٹھا لیا جانا ہماری تبلیغی جماعت کے بے شمار افراد کو علما کی فضیلت کے عنوان پر بیان کرتے ہوۓ بارہا سنا ہے کہ ہمارے بڑے سناتے ہیں کہ حدیث میں نبی پاک ﷺ نے ارشادفرمایا: عالم دین اور طالب علم کا گزرکسی بستی پر سے ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی اس بستی کے قبرستان سے چالیس دنوں تک عذاب اٹھا لیتے ہیں ۔ یہ دراصل مفہوم ہے اس روایت کا جس کے الفاظ یہ ہیں : "إن العالم ، والمتعلم إذا مرا على قرية ، فإن الله يرفع العذاب عن مقبرة تلك القرية أربعين يوما.“ تحقيق علامہ تفتازانی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب: شرح العقائد النسفیۃ‘‘ میں اس روایت کو ذکر کیا ہے ، مگر حضرات محدثین عظام کی تحقیق کے مطابق یہ ایک بے اصل و بے سند اور موضوع حدیث ہے۔چناں چہ امام ملا علی قاری رحمہ اللہ"فرائد القلائد على أحاديث شرح العقائد‘‘اور’’الموضوعات الصغرى والكبرى“؛ ان تینوں کتابوں میں اس روایت کی بابت حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی تحقیق تحریر فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ’لا اصل لہ‘‘ ( اس کی کوئی اصل سند نہیں ہے۔) علامہ عجلونی ، قاوقجی اور علامہ کرمی ، یہ حضرات محدثین بھی حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی اس تحقیق سے متفق ہیں لہذا یہ حدیث بے اصل اور موضوع ہے۔ علامہ عجلونی رحمہ اللہ نے مزید ایک موضوع روایت ذکر کی ہے کہ امام ثعلبی اور بہت سارے مفسرین حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت نقل کرتے ہیں: "إن القوم ليبعث الله عليهم العذاب حتماً مقضيا ، فيقرأ الصبي من صبيانهم في الكتاب : الحمد لله رب العالمين» فيسمعه الله تعالى ، فيرفع الله عنهم بذلك عذاب أربعين سنة. “ ( کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن کے حق میں اللہ تعالی عذاب کا حتمی فیصلہ فرما دیتے ہیں، مگر ان کے بچوں میں سے کوئی بچہ الحمد لله رب العالمين پڑھنا شروع کرتا ہے اور اللہ تعالی سن لیتے ہیں ، تو پھر ان لوگوں سے چالیس سال کے عذاب کو دور کر دیتے ہیں۔) یہ روایت نقل کر کے علامہ عجلونی رحمہ اللہ لکھتے فإنه موضوع كما قاله الحافظ العراقي وغيره ، و قيل: إنه ضعيف . ( یہ موضوع ہے، جیسا کہ حافظ عراقی وغیرہ ائمہ نے کہا ہے اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے۔) (فرائد القلائد :۱۳، کشف الخفاء: ١/ ٢٤٩، الأسرار المرفوعة: ١٤٢، المصنوع :٥٨، اللؤلؤ المرصوع: 53 الفوائد الموضوعة : ١٣١ ) View Edit
903 ١٥٢- حدیث:علماء کی زیارت ، نبی کی زیارت کی طرح ہے مقررین اور مبلغین کے درمیان حدیث کے نام سے ایک بات بڑی مشہور ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے علماء کی زیارت کی ، اس نے گویا میری زیارت کی اور جو علماء سے مصافحہ کرتا ہے، گویا وہ مجھ سے مصافحہ کرتا ہے اور جو علماء کی صحبت میں رہتا ہے، گویاوہ میری صحبت میں رہتا ہے اور یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ جو میری صحبت میں دنیا کے اندر رہتا، وہ قیامت کے دن بھی میرے ساتھ میری رفاقت میں رہے گا۔ اسی کو بعض اوقات اختصار کے ساتھ اس طرح بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جو علماء کی زیارت کرتا ہے، وہ اس خوش نصیب کی طرح ہے، جونبیوں کی زیارت سے مشرف ہوتا ہے۔ تحقيق: یہ دراصل ان روایات کی ترجمانی ہے، جنھیں حضرات محققین محدثین نے موضوع و منگھڑت مرویات میں شمار کیا ہے ، چناں چہ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے ’’ذیل الموضوعات : ۱۵۸‘‘ میں تین روایات نقل کی ہیں: (۱) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی گئی ہے: "من زار عالما فكمن زارني ، ومن صافح عالما فكمن صافحني ، ومن جالس عالماً فكمن جالسني ، و من جالسني في الدنيا أجلسه الله تعالى معي غداً في الجنة. حافظ ذہبی رحمہ اللہ ’’میزان الاعتدال:۲۹۲/۶‘‘ میں محمد بن غائم کے ترجمے میں یہی روایت نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ "لا يدرى من هو في سند مظلم‘‘۔حافظ ابن عراق رحمہ اللہ تنزيه الشريعة:۳۱۱/١ پر لکھتے ہیں کہ امام ابن النجار نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے، ایسے قصے میں جو واضح طور پر گھڑا گیا ہے۔ بہر حال امام ابن النجار ، حافظ ذہبی ، حافظ سیوطی اور حافظ ابن عراق کنانی رحمہم اللہ کی تحقیق کے بموجب مین گھڑت روایت ہے۔ (۲) مسندفردوس دیلمی‘‘ کے حوالے حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری سند سے روایت نقل کی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:’’إن لله عزوجل مدينة تحت العرش مسك أذفر ، على بابها ملك ينادي كل يوم : ألا من زار العلماء فقد زار الأنبياء ، ومن زار الأنبياء فقد زار الرب عزوجل ، ومن زار الرب فله الجنة“ (ذيل الموضوعات: ۱۵۹) حافظ سیوطی رحمہ اللہ کے بقول اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن سلیمان بھی ہے، جس پر سرقہ حدیث کی جرح ہے۔ مگر حافظ ابن عراق رحمہ اللہ کے بقول یہ راوی مختلف فیہ راوی ہے، مگر اس سے روایت کرنے والا ، جو دوسرا راوی عمران بن سہل نامی ہے، وہ مجہول ہے اور اس کا ذکر کرتے ہوۓ لکھتے ہيں لم أقف له على ترجمة ، فلعل البلاء منه ‘‘ ( میں اس کے حالات سے واقف نہیں اور غالباً یہ مصیبت حدیث کے موضوع ہونے کی اس کی طرف سے ہے) ( تنزيه الشريعة: ۳۱۱/۱) (۳) تیسری مرفوع روایت ابونعیم کے حوالے سے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے کہ ”من زارالعلماء فكأنما زارني ، ومن صافح العلماء فكأنما صافحني ، ومن جالس العلماء فكأنما جالسني ، و من جالسني في الدنيا أجلس إلي يوم القيامة . وفي لفظ : أجلسه ربي معي في الجنة يوم القيامة‘‘۔ ( ذيل الموضوعات: ١٦٠) مگر اس میں ایک راوی حفص بن عمر ہے۔حافظ سیوطی ، حافظ بن عراق رحمہما اللہ اور دیگر حضرات کے بقول اس سے مراد حفص بن عمر بن ابی العطاف بن ابی العطاف السہمی المدنی مراد ہے ۔ جس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے التاریخ الکبیر:۲۷۸۷‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’منکر الحدیث رماه يحيى بن يحيى النيسابوري بالكذب‘‘ ۔امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے "لا يجوز الاحتجاج به بحال ‘‘ کہا ہے، جب کہ امام ابوحاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں: منكر الحديث ، يكتب حديثه على الضعف الشديد‘‘۔حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ’’میزان الاعتدال‘‘ میں صرف نسائی اور امام بخاری کے قول’’منکر الحدیث ‘‘ ہی کو نقل کیا ہے ۔ جب کہ مستدرک حاکم‘‘ کی تعلیق میں ’واہ‘‘ لکھا ہے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’تقریب‘‘ پران کو’’ ضعیف‘‘اور’’التلخیص: ۱۳۴۱‘‘ میں’’متروک‘‘ کہا ہے۔ اسی طرح حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے بھی’’متروک‘‘ لکھاہے۔ جس سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے کہ یہ شدید ضعیف راوی ہے ۔ جس کی روایت کو صاف صاف موضوع تو نہیں کہا جائے گا؛ بل کہ اس کی روایت کو شد ید ضعیف روایت قرار دیا جاۓ گا ۔۔ چناں چہ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ مجمع الزوائد : ۱۸۰۷‘‘ پر لکھتے ہیں کہ فیہ حفص بن عمر بن أبي العطاف من وهو ضعيف جدا‘‘ ۔اسی طرح (حدیث، رقم :۷۹۹۹، اور رقم: ۸۰۰۰ ) پر لکھتے ہیں که وهو شديد الضعف‘‘ ۔ نیز یہی وہ راوی جس سے ’’تعلموا الفرائض فإنها من دینکم ‘‘ حدیث مروی ہے، جو ابن ماجہ کی ’’سنن:۲۷۱۹‘‘ میں، حاکم کی ’’مستدرک ، رقم : ۷۹۴۸ میں بیہقی کی ’’سنن کبیری: ۲۵۳۷‘‘ میں، دارقطنی کی ’’سنن:۴۱۰۱‘‘ میں موجود ہے ، مگر کسی نے اس روایت کو موضوع نہیں کہا حتی کہ ذہبی نے مستدرک کی تعلیقات میں ، ابن حجر نے’’التلخیص ‘‘ میں صرف اس راوی کے متعلق ’’واہ‘ اور ’متروک‘‘ لکھا ہے۔ روایت پر موضوع کا اطلاق نہیں کیا۔ نیز ابن الملقن رحمہ اللہ نے ’’البدر المنير ‘‘ میں کتاب الفرائض کی دوسری حدیث کی تحقیق وتخریج کرتے ہوۓ لکھتے ہیں کہ وهو حديث ضعيف ؛لأن في اسناده حفص بن عمر بن أبي العطاف المدني - (تهذيب الكمال:٣٨/٧-٤٠، التقريب:١٤١٨ ١٤ ،میزان الاعتدال: ۳۲۲/۲، البدر المنير: ۱۸۷/۷) علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے ’’الفوائد الجموعہ: ۳۹‘‘ میں ، ملا علی قاری رحمہ اللہ نے ”المصنوع: ۳۳۵‘ میں، علامہ طاہر پٹنی امیہ نے’’ تذکرۃ الموضوعات:۶‘‘ رحمہ اللہ اس راوی کو کذاب ‘‘ جو کہاہے یہ بات امام ابو حاتم ،امام نسائی ، امام ابن حبان امام ذہبی امام ابن حجر اور امام ابن المقلن رحمهم الله کی تحقیق کے برخلاف ہے؛ کیوں کہ اس کو کسی نے بھی کذاب نہیں کہا، نیزان ائمہ نے اس کی مرویات پر صرف ضعف کا حکم لگایا ہے ، موضوع و مکذوب کا نہیں ۔ اس کے برعکس دور حاضر کے عربی عالم اور ذیل الموضوعات‘‘ کے تحقیق نگار شیخ رامز خالد حاج حسن کے مطابق اس سند میں حفص بن عمر سے مراد حفص بن عمر بن میمون العدنی ہے۔اگر ایسا ہے تو بھی اس روایت کو موضوع اس لیے نہیں کہا جاۓ گا؛ کیوں کہ یہ بھی صرف ضعیف راوی ہے اور اول الذکر کے بہ نسبت کچھ غنیمت ہی ہے۔ جس پر زیادہ سے زیادہ جو جرح منقول ہے، وہ یہ ہے: لین الحديث ، ليس بثقه ،عامة حديثه غير محفوظ۔ (دیکھئے: تقریب: ١٤٢٠،ميزان الاعتدال: ۳۲۳/۲،تهذيب الكمال:٤٢/٧) حاصل تحقيق وخلاصۂ کلام: الغرض اول الذکر روایت کی سند کو امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’’سند مظلم‘‘ قراردیا ہے اور امام ابن النجار نے اس کے قصہ کو ظاہر الوضع لکھا ہے، جس کی وجہ سے حافظ سیوطی و ابن عراق رحمہما اللہ نے بھی اس کو موضوع تسلیم کیا ہے ۔ جب کہ ثانی الذکر روایت کی سند میں حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے جس راوی کی وجہ سے موضوع مانا ہے ، وہ راوی ایسا نہیں کہ اس کی وجہ سے روایت کو موضوع کہا جاۓ جیسا کہ حافظ کنانی رحمہ اللہ کا بھی یہی کہنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ حافظ کنانی کی راۓ میں عمران بن سہل جو کہ مجہول و غیر معلوم راوی ہے، اس کی بنا پر اس کو موضوع کہا جاۓ گا اور رہی بات ثالث الذکر روایت کی تو اوپر بندے نے تحقیق پیش کر دی ہے ، جس کی وجہ سے روایت کو شدید ضعیف کہا جائے گا مگر صریح موضوع تو نہیں کہا جاۓ گا ؛ بل کہ دوضعیف اسانید سے مروی آخر الذکر دو روایات کی بنا پر اصولاً یہ ماننا پڑے گا کہ اس روایت کی کچھ نہ کچھ اصل ضرور ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ فنی وظاہری تحقیق سے ہٹ کر ان ائمہ حدیث کے سامنے ایسے دقیق اسباب اور غوامض ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے ایسی روایات کو درجہ موضوع یا اس کے قریب ذکر کرتے ہیں اور غالبا یہی وجہ ہے کہ ان میں سے کسی کی بھی تحقیق کرتے ہوۓ ایک دوسرے کی تقویت و تائید کے لیے محدثین نے کوئی روایت ذکر بھی نہیں کی ؛ اس لیے اپنے ان بڑوں کی تحریر پر اعتماد کرتے ہوئے یہ کہنا ہی معتدل بات ہوگی کہ بلحاظ اصول حدیث صریح موضوع تو نہیں، مگر بموجب تصریحات محدثین اس قابل بھی نہیں کہ ان روایات کو بغیر بیان حقیقت ذکر کیا جاۓ ؛ اس لیے اس قسم کی روایات کا بیان نہ کرنا بہتر وافضل اور مبنی بر احتیاط ہے۔ واللہ اعلم View Edit
902 ١٥١- حدیث : کیا ایک عورت یا مردوں کو جہنم میں لے جاۓ گی؟ خطباء ،عوام الناس اور تبلیغی جماعت میں ایک روایت مشہور ہے، وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب قیامت کے روز گناہ گارعورت کے بارے میں جہنم کا فیصلہ ہوگا تو وہ اللہ سے عرض کرے گی کہ اے ما لک! میرے باپ، میرے بھائی ، میرے شوہر اور میرے بیٹے کے بارے میں بھی جہنم کا فیصلہ سنادیجیے؛ کیوں کہ ان کی ذمے داری تھی کہ مجھے ہدایت کا راستہ دکھاتے ، اللہ کے راستے میں لگاتے ، مگر انھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ اس کی اس بات کے بعد اللہ تعالی فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس عورت کے ساتھ ان چاروں کو بھی منہ کے بل ، بال گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لے جا کر پھینک دو ۔‘‘ تحقيق: عام طور پر یہ روایت اس وقت بیان کی جاتی ہے جب ’’عورت کی بے پردگی پر مردوں کی پکڑ‘‘ کے موضوع پر یا ’’عورتوں کو بلیغ میں لے جانے کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر کچھ کہا اور سنایا جا تا ہے۔ ذیل میں اسی روایت کا چند پہلووں سے جائزہ اور پھر اس پر کلام ملاحظہ ہو: پہلا پھلو: حدیث کی معتبر ومستند کتابوں میں اس مضمون و مفہوم کی کوئی روایت تلاش بسیار کے بعد بھی تا حال کہیں نہیں ملی۔ دوسرا پھلو: اس میں جو بات بیان کی گئی ہے، اس کا مطلب بظاہر یہی نکلتا ہے کہ عورت کی کوتاہی و تقصیر کی اصل ذمے دار وہ خود نہیں ہے؛ بل کہ اس کے ذمے دار چار مرد ہیں: (۱) باپ۔ (۲) بھائی۔ (۳) شوہر۔ (۴) بیٹا۔ یہ چاروں اگر چہ نیک کام کرنے اور ہدایت کا راستہ بتانے والے ہوں، مگر ان کی بیٹی یا بہن ، یا بیوی ، یا ماں اگر گناہ کرے گی تو اس کی سزا ان مردوں کو بھی ملے گی اور جہنم میں جانا پڑے گا ۔ اس مفہوم و مطلب کی صورت میں یہی نہیں کہ یہ روایت غیر ثابت و بے اصل کہلاۓ گی ؛ بل کہ سراسر باطل اور قرآن وحدیث کی تصریحات کے مخالف ہو گی، چناں چہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: من اهتدى فإنما يهتدي لنفسه ومن ضل فإنما يضل عليها ولا تزر وازرة وزر أخرى ) [سوره اسراء] ( جوشخص ( دنیا میں سیدھی راہ پر چلتا ہے، تو وہ اپنے ہی نفع کے لیے چلتا ہے اور جوشخص بے راہی اختیار کرتا ہے، وہ بھی اپنے ہی نقصان کے لیے بے راہ ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔) سورۂ انعام میں اللہ تعالی کا فرمان عالی ہے: ولا تكسب كل نفس إلا عليها ولا تزر وازرة وزر أخرى﴾ [سورة انعام ] ( جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے، وہ اس پر رہتا ہے اور کوئی دوسرے کا بوجھ ( گناہ کا) نہ اٹھاوے گا بل کہ سب اپنی اپنی بھگتیں گے )۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت مفتی شفیع عثمانی صاحب رحمت اللہ رقم فرماتے ہیں کہ عدالت الہیہ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ، وہاں ایک کے گناہ میں دوسرا ہر گز نہیں پکڑا جا سکتا، اسی آیت سے استدلال فرما کر نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا کہ ولد الزنا پر والدین کے جرم کا کوئی اثر نہیں ہوگا، یہ حدیث حاکم به سند صحیح حضرت عائشہ ﷺ سے روایت کی ہے۔ (معارف القرآن:۵۱۰/۳-۵۱۱) قرآن مجید کی ان دو آیتوں کے علاوہ ﴿ سورہ تحریم میں اللہ تعالی حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی کافر بیویوں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کو اہل جہنم میں داخل فرمایا ہے ، مگر ان کے کفروشرک اور فسق و فجور کی پاداش میں ایک الزام وتحقیر کا ایک لفظ بھی حضرات انبیاء کے حق میں استعمال نہیں فرمایا ؛ بل کہ اس احتمال کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کا جواب دے دیا کہ اور فرما دیا کہ یہ دونوں جلیل القدر پیغمبر ہمارے خاص ومقرب بندوں میں سے ہیں اور دونوں ہی صلاح وفلاح والے ہیں ، چناں چہ ارشادربانی ہے: وضرب الله مثلا للذين كفروا امرات نوح و امرات لوط كانتا تحت عبدين من عبادنا صالحين فخانتهما فلم يغنيا عنهما من الله شيئا وقيل ادخلا النار مع الدخلين [سورہ تحریم ] اس سے ظاہر و باہر ہو گیا کہ زیر بحث روایت ثابت نہ ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن وحدیث کے معارض اور قانون اسلامی کے خلاف ہے، لہذا اس کو کسی بھی طرح کسی کے لیے بھی بیان کرنا جائز نہیں ہے۔ تیسرا پھلو: اگر اس کلام کی تاویل میں کوئی یہ کہے کہ اسلام میں مردوں کو گھر والوں کا نگراں وذمے دار بنایا گیا ہے؛ لہذامردوں کے ماتحت رہنے والوں کی بدعملی کے ذمے دار وہ خود ہوں گے ۔ تو یادرکھنا چاہیے کہ اپنے ماتحتوں ومتعلقین کی تعلیم وتربیت کے باب میں تنہا مردہی ذمے دار نہیں ہیں؛ بل کہ عورتیں بھی برابر کی شریک اور ذمے دار ہیں، چناں چہ نبی اکرم ﷺ کی حدیث صحیح میں صاف صاف مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : المرأة راعية على بيت بعلها ، و ولده ، وهي مسئولة عنهم‘‘ (عورت اپنے شوہر کے گھر کی اور بچوں کی نگران و ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں بھی سوال یعنی حساب و کتاب ہوگا۔) لہذا جس طرح عورت کی تعلیم وتربیت میں اگر اس کے ذمے دار مردکی وکوتاہی کر یں گے ، تو ان کی پڑ کی جائے گی ، اسی طرح اگر مردوں کی تعلیم وتربیت اور ان کی خیر خواہی کی ذمے دار خواتین اگر کوتاہی وغفلت برتیں گئیں، تو ان کی بھی برابر پکڑ ہوگی۔ (البخاري:٢٥٥٤،مسلم:٤٨٢٨) چوتھا پهلو: امام بیہقی رحمہ اللہ کی شعب الایمان:۸۲۲۶‘‘ میں اور ان ہی کے حوالے سے ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے ’’باب الولي في النكاح واستئذان المرأة “ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: "من ولد له ولد فليحسن اسمه ، و أدبه ، فإذا بلغ فليزوجه ، فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إنما فإنما إثمه على أبيه.» (جس کے یہاں اولاد پیدا ہو، تو اس کو چاہیے کہ اس کا نام اچھارکھے اور اس کی صحیح پرورش کرے۔ پھر جب وہ بالغ ہو جاۓ ، تو شادی کر دے؛ کیوں کہ اگر یہ اولاد بالغ ہوئی اور اس نے ان کی شادی نہیں کی اور اس اولادنے کوئی گناہ کرلیا، تو اس کے گناہ کا وبال اس کے باپ پر ہوگا ۔ ) اسی طرح ’’شعب الایمان: ٨٦٧٠" میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ” في التوراة مكتوب من بلغت إبنته إثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فأصابت إنما قاثم ذلک علیہ‘‘ ( تورات میں لکھا ہوا ہے کہ جس کی بیٹی بارہ برس کی ہوگئی بالغ ہوگئی اور باپ نے اس کی شادی نہیں کی اور اس لڑکی نے جنسی گناہ کر لیا، تو اس کا گناہ [ وبال] اس کے باپ پر ہوگا )۔ ان دوروایات کا حاصل یہ ہے کہ اولادکوصحیح تعلیم وتربیت نہیں دی گئی اوران کی تربیت میں والدین نے مجرمانہ حد تک کوتاہی برتی ، تو اس اولاد کی برائیوں کا وبال والدین کو بھی چکھنا پڑے گا ، اولاد کو تو ارتکاب جرم کی وجہ سے اور اس کے والدین کواولاد کی صحیح تربیت کرنے میں کوتاہی برتنے کی وجہ سے۔ پانچواں پھلو: ” تفسیر ابن جریرطبری:۳۲/۷-۳۳‘‘ میں، «تفسیر ابن ابی حاتم ، رقم : ۵۳۳۵ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ منقول ہے کہ قیامت کے دن حساب ہوگا تو بندے کا ہاتھ پکڑ کر یا بندی کا ہاتھ پکڑ کر سامنے لا کے کھڑا کر دیا جائے گا، اور ایک ندالگانے والا فرشتہ تمام اولین و آخرین لوگوں کے سامنے ندا لگائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں ہے ،اس پر جس کسی کا حق ہے وہ آۓ اوراپناحق وصول کر لے، یہ سنتے ہی عورت چاہے گی کہ کسی طرح اس کاحق نکل آۓ چاہے باپ پر ہو، یا بھائی پر ہو، یا شوہر پر ہو، الخ عربی عبارت یہ ہے: "قال عبد الله بن مسعود ﷺ : يؤخذ بيد العبد و الأمة يوم القيامة فينادي مناد على رؤوس الأولين و الآخرين : هذا فلان بن فلان ، من كان له حق فليأت الى حقه ، فتفرح المرأة أن يذوب لها الحق على أبيها أو على أخيها ، أو على زوجها ؛ اهـ“ ’’ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی والا کلام سنانے والے شاید اس روایت کو بنیاد بنائیں مگر چند امور قابل غور ہیں: امر اول : ایک عورت اور چار مردوں کی تخصیص صحیح نہیں ، اس لئے کہ جس طرح عورت کا ذکر ہے اسی طرح ایک روایت میں مرد کا بھی ذکر ہے کہ فرشتے کے اس اعلان کو سن کر مر د بھی چاہے گا کہ اس کا حق باپ پر ، یا بیٹے پر ، یا بیوی پر ، یا بہن پر نکل آۓ ۔ چنانچہ امام طبری کی روایت کے الفاظ ہیں: "فيفرح - والله - المرء أن يدور له الحق على والده ، أو ولده ، أو زوجته ، أو أخته فيأخذه منه و ان كان صغيراً ، اهـ“ لیجیے جس طرح عورت کا ذکر ہے اسی طرح مرد کا بھی ذکر ہے۔ امر دوم : تخصیص اس لیے بھی میچ نہیں ؛ کیوں کہ روایت میں مرداور عورت دونوں کے حساب و کتاب کا ذکر ہے، چنانچہ امام طبری کی روایت میں الفاظ ہیں:”يؤخذ بيد العبد و الأمة ‘‘اورامام ابن ابی حاتم کی روایت کے الفاظ ہیں: یؤتى بالعبد و الأمة ‘‘۔ امر سوم : یہ تو روایتا تخصیص نہ کرنے پر قرائن ہیں تخصیص کے صحیح نہ ہونے پر سب سے بڑی دلیل درایت اور نصوص شرع ہیں ، چنانچہ آخرت میں جس طرح عورت کو مردوں سے اپنا حق وصول کرنے کا حق ملے گا اسی طرح مردکو بھی عورتوں سے اپناحق وصول کرنے کا حق ملے گا۔ حقیقی انصاف کے دن صرف عورت کے ساتھ اور مرد کے ساتھ بے انصافی نہیں ہو گی۔ بلکہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کے لئے می اعلان ہوگا ( سابقہ سطور میں چند روایت جونقل کی گئیں وہ اس کی واضح دلیل ہیں)۔ امر چهارم : آخرت کے امور سے متعلق ہونے کی بنا پر کوئی اس موقوف حدیث کو حکما مرفوع خیال نہ کرے، اس لئے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد از قبیل سماع من النبی ﷺ سے نہیں ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ یہ از قبيل الاستنباط من الآيات بطريق التدبر فیھا ہو، چنانچہ روایت میں تصریح ہے ثم قرأ ابن مسعود فلا أنساب بينهم يوميد ولا يتساء لون‘‘۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ ہیں:’’ومصداق ذلك في كتاب الله‘‘۔ حاصل کلام خلاصہ یہ کہ ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گئی والی بات جس طرح کی تخصیص تعیین کے تاثر ظاہر کے ساتھ بیانات ،اختبارات واشتہارات میں نقل کی جاتی ہے اس طرح آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، بلکہ اس طرح کی تخصیص کرنا نصوص شرع میں تغیر وتبدل کا باعث ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے ۔اور اس طرح بیان کرنا بھی صحیح نہیں ہے ۔ دیکھئے بات ثابت اور صاف ہے کہ جو کوئی کسی کے دینی و دنیاوی حقوق میں کوتاہی کرے گا وہ شخص اس حق تلفی کی وجہ سے آخرت میں غضب الہی کا شکار ہوگا ، اب حق تلفی کا ظلم عورت پر باپ و بیٹا ،شوہر و بھائی یا دوسرے ذمہ دار مردکر میں یا عورتیں کریں تخصیص کسی کی بھی نہیں ، اسی طرح مرد پرظلم ماں ، بیوی ، بیٹی ، بہن کرے یا دوسری ذمہ دار خواتین کریں سبھی کی پکڑ ہوگی تخصیص کسی کی بھی نہیں ہے۔ اس بات کو بیان کرنے والے اگر تمثیلاً بیان کریں تو علماء کوکسی قسم کا شبہ واشکال نہ ہووے گا، مگر جب بیان کرنے والوں نے تخصیص تعیین پر زور دے کر بیان کیا اور یہ تاثر دیا کہ یہ بات عورت ہی کے ساتھ خاص ہے تو علماء کو اشکال وشبہ ہوا، بل کہ یہ ایک منکر ہوا جس پر حضرات علماء کونکیر کرنی پڑی، چنانچہ متعددعلماءعرب و عجم نے اس وجہ سے اس پر نکیر کی ہے اور اس طرح کی روایت کو خلاف شرع اور باطل قرار دیا ہے۔ View Edit
901 ١٥٠- حدیث : ایک غریب صحابی کی شادی اور جماعت میں نکلنے کا قصہ مولانا طارق جمیل صاحب کا ایک بیان جو کہ ویڈیو کی شکل میں محفوظ اور انٹرنیٹ پر شائع وذائع ہے۔اس میں مولانا بیان کرتے ہیں: ’’ایک صحابی آتے ہیں، حضرت سعد سلیمی، يارسول الله! أيمنعني سوادي ودمامة وجهي من دخول الجنة؟ میرا کالا رنگ مجھے جنت سے روک دے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: کیوں کیا بات؟ اگر تو ایمان والا ہے، تو مجھے کون جنت سے روک سکتا ہے؟ فرمایا: پھر بات یہ ہے کہ میں غریب آدمی ہوں، میرا رنگ کالا ہے، میں بدصورت ہوں ، لیکن میں بنوسلیم کے اشراف میں سے ہوں۔ بنوسلیم ایک قبیلہ تھا۔ اب بات یہ ہے کہ مجھے کوئی لڑکی نہیں دیتا، میرے کالے رنگ کی وجہ سے ، میری غربت کی وجہ سے، آپ ﷺ نے فرمایا: احضر اليوم عمر بن وهب الثقفي ؟ آج عمر بن وہب آۓ ہیں؟ یہ مدینے کے چودری تھے، بڑے مال دار تھے، بیٹی ان کی بڑی خوب صورت تھی کہا گیا، آج مجلس میں موجود نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ عمرو سے کہو، اپنی لڑکی تیرے نکاح میں دے دے۔حضرت سعد ﷺ جا کر دروازے پر پہنچے، سلام کیا ، کون سے بڑے گھر ہوتے تھے، ایک کمرہ ہوتا تھا، چھوٹا سا صحن ہوتا تھا، دروازے پر دستک دی، باہر نکلے، کیا بھائی ! کیا ہوا؟’’أنا قاصد رسول اللہ‘‘ میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں، اپنے لیے تیرے پاس تیری بیٹی کے ساتھ شادی کا پیغام لایاہوں۔ انھیں یقین نہیں آیا ، بظاہر کہنے لگے: بھاگ جا کہاں کی بات کرتا ہے۔ وہ تو س بے چارہ پہلے ہی غریب تھا، غم کھایا ہوا، وہ ڈر کے مارے وہاں سے پیچھے ہٹا، بیٹی خوب صورت ، حسن و جمال میں مشہور اور میرے بھائیو! مال میں مشہور بیٹی کے کان میں باپ کی اور سعد کی آواز پڑی، بیٹی سے پیچھے سے آواز دی: یا أباه النجاة ، النجاة قبل أن يفتحه الوحي‘‘ اے اباجان ! یہ سوچ لو، کیا کر رہے ہو؟ تم نبی ﷺ کی بات کو ٹھکرارہے ہو، ہلاک ہو جاو گے، میں تیار ہوں ۔ نبی ﷺ کے حکم کے سامنے میں کالے گورے کو نہیں دیکھ رہی ، میں نبی ﷺ کے حکم کو دیکھ رہی ہوں ، جاو ، میں تیار ہوں اور کہہ دو میں شادی کروں گی۔ دوڑے بھاگے، پیچھے گئے ،آپ و مسجد میں تشریف فرما تھے، جب دیکھا عمرو آۓ ہیں :”أنت الذي رددت أمر رسول اللہ ﷺ ، تو نے اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کوٹھکرایا ہے۔ کہنے لگے: میرے ماں باپ قربان ہوں، یا رسول اللہ ! خطا ہوئی ، معاف فرماۓ حکم کیجیے! کیا حکم ہے؟ فرمایا: اس سے شادی کراو۔عرض کیا: آپ ﷺ نکاح پڑھیں ، آپ ﷺ نے نکاح پڑھا، چارسو در ہم مقرر ہوۓ ، آپ ﷺ نے فرمایا : سعد جاو، لڑکی کو لے کر آو۔ کوئی برات تو ہوتی نہیں تھی۔ میرے بھائیو! ہاۓ کتنے لاکھوں کروڑوں روپے صرف اس پر آج مسلمان کے خرچ ہورہے ہیں؟!! بڑے بڑے سفر کرنے والے، جب شادی کا وقت آتا ہے، کہتے ہیں: کیا کریں؟ برادری سے مجبور ہیں ۔حضور ﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی کی اور شام کو حضرت ام ایمن کو بلایا ، کہا: ام ایمن ! جاو، میری بیٹی کو حضرت علی کے گھر چھوڑ کر آ جاو ۔ فرمایا: سعد ! جاؤ بیوی کو لے کر آو ، یا رسول اللہ ! میرے پاس تو ایک دمڑی بھی نہیں ہے، میں چارسو کہاں سے پیدا کروں اور اس کو لے کر آوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا چلو، گھبرانے کی ضرورت نہیں ، جاو علی رضی اللہ عنہ کے پاس ، عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس؛ ان سے کہو کہ تمھیں دو دوسو درہم دے دیں، پھر تیرے پاس چھ سو درہم ہو جائیں گے، چارسو درہم سے مہر ادا ہو جاۓ گا اور دوسو سے اور کوئی اپنا کام کر لینا ، نہ گھر ، نہ در ،کوئی کپڑاسی لینا ۔ تو فرمانے لگے: بہت ہی اچھا، تو حضرت علی ﷺ کے پاس گئے ، حضرت عثمان ﷺ کے پاس گئے ، حضرت عبدالرحمن ﷺ کے پاس گئے ، انھوں نے خوش ہوکر دو دوسو درہم سے بھی زیادہ دیا ،کتنا زیادہ ، بس اتنے لفظ زیادہ آتے ہیں، وما زاد‘‘۔ دو دوسو اور اس سے زیادہ ،اب کتنا زیادہ دیا ؟ یہ معلوم نہیں ، بہر حال چھ سو سے زیادہ ہو گیا ، ہزار ہو گیا ،نوسو ہو گیا۔ اب سعد بڑے خوش ، کیوں بھائی ! ایک نوجوان جو بڑی خوب صورت لڑکی سے نکاح کرنے والا ہو، اس کے جذبات کو کوئی سمجھ سکتا ہے، سواۓ اس کے جس پر یہ خود گزری ہو، کیا خیال ہے؟ آپ کا کیا جذبہ ہوگا ، سعد کا کیا جذبہ ہوگا اور بڑی خوشی سے کہنے لگے لڑکی لینے تو بعد میں جاوں گا، پہلے کچھ بازار سے سودا تو خرید لوں، چارسو تو مہر میں گیا، باقی کیا کروں، انھوں نے کہا کہ کوئی چار پائی ، تو خر یدلوں گا ،کوئی کپڑا تو خریدلوں کا کوئی کھانے پینے کا سامان ہی خریدلوں گا؛ تا کہ کچھ میرا کام چل سکے، گھر کی شکل بن سکے۔ جب بازار میں داخل ہوۓ اور پیسے پکڑے بازار میں قدم رکھا، کان میں آواز پڑی، يا خيل الله ! اركبي ، وإلى ثواب الله ارغبي ، النفير، النفير يا خيل الله ! اركبي ، وإلى ثواب الله ارغبي ‘‘اے اللہ کے سوارو! اللہ کے راستے کی پکار ہے نکلو ‘‘ ( یہ بیان ویڈیو(Video) سے سن کر من و عن نقل کیا گیا ہے۔) تحقيق یہ ترجمانی ہے اس روایت کی جو حضرت انس ﷺ کے واسطے سے نقل کی گئی ہے ، روایت تو بہت ہی طویل ہے، مگر مولانا نے جتنے حصے کی ترجمانی کی ہے، بس اتنے ہی حصے کی عربی عبارت نقل کرتا ہوں ، چناںچہ امام ابن عدی رحمہ الکامل‘‘ میں محمد بن عمر بن صالح کلامی کے تذکرے میں ذکر کرتے ہیں: أتى رجل رسول اللہ ﷺ فسلم عليه ، و قال: يا رسول الله ! أيمنع سوادي ودمامة وجهي من دخول الجنة ، قال : لا ، والذي نفسي بيده ما اتقيب ربک ، و آمنت بما جاء به رسول اللہ ﷺ ، قال :والذي أكرمك بالنبوة لقد شهدت أن لا اله إلا الله وحده لا شریک له ، و أن محمدا عبده و رسوله ، و الإقراء بما جاء به من عند الله من قبل أن أجلس معك هذا المجلس بثمانية أشهر، فقال رسول الله: لك ما للقوم ، و عليك ما عليهم و أنت أخوهم ، قال : و لقد خطبت إلى عامة من بحضرتك ، و من لقيني معك ، فردنی لسوادي ، و دمامة وجهي ، و إني لفي حسب من قومي بني سليم معروف الآباء ، و لكن غلب علي سواد أخوالي الموالي ، فقال رسول الله ﷺ : هل شهد المجلس اليوم عمرو بن وهب . و كان رجلاً من ثقيف قريب العهد بالإسلام ، وكانت فيه صعوبة ، قالوا: لا، قال: تعرف منزله ؟ قال : نعم ، قال: فاذهب فاقرع الباب قرعاً رقيقاً ثم سلم ، فإذا دخلت فقل : زوجني رسول اللہ ﷺ فتاتكم . وكانت له ابنة عاتقة ، وكان لها حظ من جمال وعقل ، فلما أتى الباب فرحوا وسمعوا لغة عربية ، فلما رأوا سواده و دمامة وجهه انقبضوا عنه ، فقال: إن رسول اللہ ﷺ زوجني فتاتكم ، فردوا عليه ردا قبيحاً ، فخرج الرجل وخرجت الفتاة من خدرها ، وقالت: يا فتی! ارجع ، فإن كان رسول الله زوجنيك ، فقد رضيت لنفسي ما رضي الله رسوله ، و أنت بعلي ، و أنا زوجتك ، فمضى حتى أتى رسول الله فأخبره ، و قالت الفتاة لأبيه : يا أبتاه ، النجاة ، قبل أن يفضحك الوحي ، فإن يكن رسول الله زوجنيه فقد رضيت ما رضي الله لي و رسوله . فخرج الشيخ حتى أتى رسول الله ﷺﷺ و هو من أدنى القوم مجلساً ، فقال: أنت الذي رددت على رسول الله ما رددت ، قال : قد فعلت ، فاستغفر الله ، وظننا أنه كاذب فقد زوجناها إياه ، فنعوذ بالله من سخط الله ، و سخط رسوله ، فقال رسول اللہ ﷺ : اذهب إلى صاحبتك فادخل بها ، قال: والذي بعثك بالحق ما أجد شيئاًحتى أسأل إخواني ، فقال رسول اللہ ﷺ : مهر امرأتك على ثلاثة من المؤمنين ، اذهب إلى عثمان بن عفان فخذ منه مائتي درهم . فأعطاه و زاده ، و اذهب إلى علي بن أبي طالب ، فخذ منه مائتي درهم . فأعطاه وزاده . و اذهب إلى عبد الرحمن بن عوف فخذ منه مائتي درهم . فأعطاه و زاده . قال: و علم أنها ليست بسنة جارية و لا فريضة مفروضة فمن شاء فليتزوج على القليل و الكثير ، فبينا هو في السوق و معه ما يشتريه لزوجته فرح قريرة عيناه ينظر ما يجهزها به إذ سمع صوتاً ينادي: يا خيل الله ! اركبي و أبشري فنظر نظرة إلى السماء ، ثم قال: اللهم إله السماء ، و إله الأرض ، و رب محمد لأجعلن هذه الدراهم اليوم فيما يحبه الله و رسوله ، و المؤمنون... اهـ ( الكامل في ضعفاء الرجال: 431/7) اس روایت کی سند میں دوراوی ہیں: (۱) سوید بن سعید انباری: امام مسلم ، امام ابن ماجہ اور امام عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان سے روایت لی ہے، فی نفسہ ثقہ و صدوق ہیں؛ مگر آخری عمر میں نابینا ہونے کی وجہ سے تلقین فاحش کا شکار ہو گئے تھے، نیز بکثرت تدلیس بھی کرتے تھے۔ چناں چہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کان قد عمي فتلقن ما ليس من حديثه‘‘۔ امام صالح بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدوق إلا أنه كان قد عمي فكان يلقن أحاديث ليست من حديثه ‘‘۔ امام حاکم ابواحمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:عمي في آخر عمره فربما لقن ما ليس من حديثه ‘‘ ۔امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کے کان صدوقا وكان يدلس و یکثر ذلک‘‘۔ عمي تلقین فاحش کی مثال میں ایک واقعہ’’تہذیب الکمال میں منقول ہے کہ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ سوید بن سعید بطریق ابن ابی الرجال: "من قال في ديننا برأيه فاقتلوہ‘‘ یہ حدیث روایت کرتے ہیں، تو ابن معین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سويد ينبغي أن نبدأ به فیقتل ‘‘ ( بہتر ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور وہ قتل کر دیا جاۓ )۔امام ابوزرعہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ وہ تو یہ روایت اسحاق بن نجیح ( مشہور زمانہ واضع حدیث کے طریق سے بیان کرتے ہیں، تو امام ابوزرعہ نے فرمایا کہ ہاں یہ اسحاق بن نجیح ہی کی روایت ہے جسے سوید بطریق ابن ابی الرجال بیان کرتے ہیں ممکن ہے کسی نے سوید کوحقیقت بتائی ہواور انھوں نے رجوع کرلیا ہو۔ ایسی تلقین فاحش کی جرح جس راوی پر لگائی گئی ہو اور اس کی مرویات میں تمیز دشوار ہو، نیز اس کی متابعت و تقویت میں کوئی دوسرا راوی بھی نہ ہو، تو اس کی حدیث محدثین کے نزدیک نہایت ہی ضعیف ومتروک قرار دی جاتی ہے۔ (الكامل:٤٩٦/٤ ،ميزان الاعتدال:٣٤٥/٣،تهذيب الكمال:٢٤٧/١٢) (۲) محمد بن عمر بن صالح کلائی: امام ابن حبان رحمہ اللہ ’’المجروہین‘‘ میں لکھتے ہیں : شیخ يروي عن أهل البصرة ، منكر الحديث جدا ، روى عنه سويد بن سعيد الكلاعي أستحب ترك الاحتجاج بحديثه إذا انفرد ‘‘۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ ’’الکامل‘‘ میں فرماتے ہیں کہ منکر الحديث عن ثقات الناس‘‘ منكر الحد یث محدثین کے نزدیک وہ راوی ہوتا ہے، جس کی اکثر و بیشتر روایات دوسرے راویوں سے الگ ہو اور اس کی موافقت میں دوسرا کوئی اس کے ساتھ شریک نہ ہو ۔ جیسا کہ اصول حدیث کی کتابوں میں درج ہے۔ (المجروحين: ٢/ ٣٠٤، ۲۹۱/۲، الکامل: ٤٣١/٧ ، ميزان الاعتدال:۲۷۷/۶،میزان الاعتدال: ۲۷۷/۶،الكامل في الضعفاء: ٧/ 431 ) الغرض اس راوی کی وجہ سے حدیث ضعیف کہلاۓ گی ؛ مگر اول الذکر راوی ( جو کہ تلقین فاحش کا شکار ہیں ) کی وجہ سے شدید ضعیف ہو جاۓ گی ۔خصوصاً اس وقت جب کہ روایت کے دونوں درجوں میں دونوں ہی متفرد و تنہا ہوں ، کوئی دوسرا ثقہ راوی ، حتی کہ ضعیف راوی اس روایت میں ان کے ساتھ شریک بیان نہ ہو۔ حدیث کے موضوع ہونے پر حضرات محدثین کی تصریح: اصول حدیث کی رو سے بلحاظ سند اس روایت کو بظاہر شدید ضعیف کہا جاۓ گا ، مگر حضرات ائمہ حدیث اور محقق ماہرین فن کے سامنے کچھ ایسے آثار و قرائن قائم ہوتے ہیں ، جن کی وجہ سے محققین راوی اور روایت پر ظاہر کے برخلاف حکم لگاتے ہیں ، جیسا کہ مقدمہ مسلم کے بعض ضعیف و کمزور راویوں کے سلسلے میں امام نووی رحمہ اللہ نے جگہ جگہ وضاحت وصراحت فرمائی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ حدیث شدید ضعیف ہے مگر محقق محدثین نے دیگر قرائن کی روشنی میں اس کو صاف صاف موضوع قرار دیا ہے ؛لہذا واجب وضروری ہے کہ جس طرح دیگرفنون میں ماہرین کی اتباع امرمعقول اور ضروری ہے، اسی طرح یہاں بھی علم حدیث کے سلسلے میں ہم پر لازم ہے کہ ہم محقق ماہرین فن حدیث کی بات کو فیصل و حکم تسلیم کر لیں ۔ الغرض جن محدثین نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے، ان کا نام و کلام درج ذیل ہے، ملاحظہ ہو: (۱) محمد بن عمر کلاعی کے تذکرے میں’’لسان المیزان ‘‘میں درج ہے کہ’’قال الحاكم: روى عن الحسن و قتادة حديثاً موضوعاً ، روى عنه سويد بن سعيد بید‘‘ (امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس راوی نے حضرت حسن اور حضرت قتادہ سے ایک موضوع حدیث بیان کی ہے، جسے سوید بن سعید اس کے حوالے سے نقل کی ہے ) ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس روایت کا ابتدائی حصہ اور امام حاکم کی یہ تصریح نقل کرتے ہیں اور تنقید وتعاقب کا ایک حرف بھی نہیں لکھتے ، جو قرینہ ہے کہ حافظ عسقلانی ، امام حاکم کے اس فیصلے سے راضی ہیں اور امام حاکم رحمہ اللہ کی ان کے نزدیک بھی یہ ایک موضوع و خودساختہ حدیث ہے۔ (۲) حافظ محمد بن طاہر مقدسی رحمہ اللہ احادیث موضوعہ کے موضوع پر تحریر فرمودہ اپنی کتاب میں اس کو درج کرتے ہیں ، جو کہ قرینہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ روایت موضوعات میں سے ہے، آپ کے الفاظ یہ ہیں: ايمنع سويقتي و دمامتي دخول الجنة ، قال: لا ما اتقيت الله ؛ فيه محمد بن عمر الكلاعي ، هو منكر الحديث. ‘‘ (کتاب تذكرة الموضوعات:۳۸) (۳) حافظ ابن عراق کنانی رحمہ اللہ نے تنزیہ الشریعہ کے مقدمے میں احادیث گھڑنے والوں اور من گھڑت احادیث کی روایت کرنے والوں کی ایک فہرست درج کی ہے ، جس میں آپ رقم طراز ہیں:’’محمد بن عمر بن صالح الكلاعي ، قال الحاكم: روى عن الحسن و قتادة حديثاً موضوعاً‘‘۔ اس راوی کا نام لینا اور پھر امام حاکم رحمہ اللہ کی تحقیق نقل کرنا ؛ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حافظ ابن عراق رحمہ اللہ کے نزدیک بھی محمد بن عمر کے طریق سے یہ جوزیر بحث روایت آئی ہے، وہ موضوع حدیث ہے۔ (لسان الميزان:٤٠٢/٧،التذكرة لطاهر المقدسي: ٣٥٤،تنزيه الشريعة: ١١١) روایت درایت کی روشنی میں: اب تک جو کچھ کلام ہوا، وہ روایت کی سند سے متعلق تھا ، لیکن ذرامتن روایت پر غور کیا جائے ، تو کئی باتیں منکر نظر آتی ہیں، مثلاً (الف) احادیث معتبرہ سے یہ امر ثابت اور واضح ہے کہ آپ ﷺ دوسروں کے ذاتی حالات اور نجی معاملات میں دخیل نہیں بنتے تھے، بلکہ آپ دوسروں کوان کے ذاتی امور میں آزاد چھوڑ دیتے اور کبھی کوئی بات ارشادفرماتے تھے تو وہ مشورے ،راۓ اور نصیحت کے طور پر فرماتے ، حاکمانہ طور پر ہرگز ہرگز نہیں۔ اب یہاں ایک لڑکی اور اس کے ذمہ داروں کی رضاورغبت جانے بغیر شادی کر دینا اور وہ بھی اس پس منظر میں کہ لڑکے کو کوئی لڑکی دینے آمادہ نہیں تھا؛ پھر ذمہ دار کے قبول نہ کرنے پر آپﷺ کا ناراض ہونا ، یہ بات آپ ﷺ کے مزاج ،تعلیمات اور پوری زندگی کے اسوہ حسنہ کے پیش نظر بعید ہے۔ (ب) مہر کے سلسلے میں اتنی تکثیر اور تشدید کہ چھ سو درہم مختلف صحابہ سے طلب کرانا ، حالاں کہ صرف دوسو درہم ہی سے لڑ کا صاحب نصاب یعنی مال دار بن گیا، پھر مزید دوسودرہم سے بھی بدرجہ اولی مال بن گیا ، اس کے باوجود دراہم کو طلب کروانا یا صحابہ کے ذمہ کرنا ،اور بطور خاص نکاح کے موقع پر جب کہ نکاح کی بات آسانی کی ہدایات آپﷺ سے صاف وصریح منقول بھی اور اس پر آپ کا عمل بھی ہے۔ الغرض عام تعلیمات و ہدایات سے الگ وجداباتیں نقل کرنے کی بنا پر محمد بن عمر کلاعی اور اس کی روایات کو منکر الحدیث‘‘اور’’المناکیر قرار دیا ہے۔ بہ ہر حال اصول حدیث اور محدثین کی تصریح کی بنا پر یہ حدیث غیر ثابت اور موضوع ہے۔ View Edit